چینی بحری جہاز ’فلائنگ فش ون‘ نے شنگھائی سے سینٹ پیٹرزبرگ تک کا سفر شمالی سمندری راستے سے طے کر کے عالمی تجارت میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ سفر روایتی نہر سویز کے راستے کے مقابلے میں تقریباً 4,000 میل مختصر تھا، جس نے وقت اور ایندھن دونوں کی بڑی بچت کی۔
کاغذ پر یہ اعداد و شمار ایک بہترین کاروباری فیصلہ لگتے ہیں۔ لیکن عالمی تجارت کے شطرنج میں، آرکٹک کا یہ راستہ صرف ایندھن بچانے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک بڑے جیو پولیٹیکل کھیل کا حصہ ہے۔
موجودہ حالات میں بحری تجارت دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر میں حوثی باغیوں کے حملے ہوں یا پاناما نہر میں پانی کی سطح میں کمی، عالمی سپلائی چین متبادل راستوں کی تلاش میں ہے۔ بیجنگ کے لیے یہ صرف ایک عارضی حل نہیں، بلکہ اس کے "پولر سلک روڈ” کے خواب کی عملی تعبیر ہے۔
ایک میری ٹائم تجزیہ کار کے مطابق، "جب آپ ایک سفر میں 10 سے 15 دن بچا سکتے ہوں، تو برفانی راستے کی مشکلات ثانوی ہو جاتی ہیں۔”
لیکن یہ سکہ صرف ایک رخ کا نہیں ہے۔ چین کا خود کو "نزدیکی آرکٹک ریاست” قرار دینا آرکٹک کونسل، بالخصوص امریکہ اور نارڈک ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ اس راستے پر چین کی بڑھتی ہوئی نقل و حمل دراصل روس کے ساتھ اس کے گہرے ہوتے اشتراک کو ظاہر کرتی ہے۔ مغربی پابندیوں کی زد میں آنے کے بعد، روس کو اپنے شمالی بندرگاہوں کو فعال رکھنے کے لیے چینی سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔
پینٹاگون کی حالیہ آرکٹک حکمت عملی میں خبردار کیا گیا ہے کہ خطے میں چین اور روس کا بڑھتا ہوا تعاون آرکٹک کے توازن کو بگاڑ سکتا ہے۔ مغربی ممالک ہر چینی مال بردار جہاز کو صرف تجارت نہیں، بلکہ مستقبل میں فوجی موجودگی کی ایک آزمائش کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین اور بڑی شپنگ کمپنیاں اب بھی محتاط ہیں۔ آرکٹک میں گہرے پانی کی بندرگاہوں کا فقدان ہے، ریسکیو کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے، اور کسی بھی حادثے کی صورت میں ماحولیاتی تباہی ناقابل تلافی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ ‘مرسک’ جیسی بڑی مغربی کمپنیاں اس راستے سے دور ہیں۔
چین ان خدشات کو نظر انداز کر رہا ہے۔ بیجنگ کے لیے یہ راستہ "ملاکا ڈائلما” سے بچنے کا ایک اسٹریٹجک راستہ ہے۔ چین کو خدشہ ہے کہ تنازع کی صورت میں ملاکا آبنائے کے ذریعے اس کی توانائی اور تجارت کا راستہ بند کیا جا سکتا ہے۔
’فلائنگ فش ون‘ کا کامیاب سفر یہ ثابت کرتا ہے کہ آرکٹک کا راستہ تجارتی طور پر ممکن ہے۔ تاہم، کیا یہ عالمی تجارت کا مرکزی شاہراہ بن سکے گا؟ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ عالمی مارکیٹ کتنی سیاسی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
ایک تجربہ کار بحری کپتان کے الفاظ میں، "برف پگھل رہی ہے، لیکن کشیدگی جم رہی ہے۔”
