پوپ لیو چہاردہم نے اپنے افریقی دورے کے ایک نہایت اہم مرحلے میں استوائی گنی کے شہر باتا کی جیل کا دورہ کیا اور قیدیوں سے کہا کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔ بدھ، 22 اپریل کو ہونے والا یہ دورہ محض ایک رسمی ملاقات نہیں تھا بلکہ اس نے ملک کے نظامِ انصاف، انسانی وقار اور سماجی انصاف سے متعلق ایک گہرا پیغام دیا۔
یہ جیل دورہ پوپ کے استوائی گنی میں قیام کے آخری مکمل دن کا حصہ تھا۔ وہ اس سے قبل مالابو سے مونگومو گئے جہاں انہوں نے صبح کی عبادت کی قیادت کی، پھر باتا پہنچے۔ جیل کے دورے کے بعد انہوں نے 7 مارچ 2021 کے دھماکوں کے متاثرین کی یادگار پر حاضری دی اور بعد میں باتا اسٹیڈیم میں نوجوانوں اور خاندانوں سے ملاقات کی۔
باتا جیل کے اندر پوپ لیو کا پیغام سادہ تھا، مگر اثر بہت گہرا۔ انہوں نے قیدیوں کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ چرچ انہیں بھولا نہیں، اور یہ کہ انصاف صرف سزا دینے کا نام نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسا نظام ہونا چاہیے جو انسان کی عزت محفوظ رکھے اور اسے دوبارہ سنبھلنے کا موقع دے۔ اسی روز انہوں نے عوامی خطاب میں اس بات پر بھی زور دیا کہ معاشرہ نجی مفادات کے بجائے اجتماعی بھلائی کو ترجیح دے اور امیر و غریب کے درمیان بڑھتے فرق کو کم کرے۔
یہ الفاظ ایک ایسے ملک میں خاص وزن رکھتے ہیں جہاں صدر تیوڈورو اوبیانگ نگویما مباسوگو 1979 سے برسراقتدار ہیں۔ استوائی گنی کو طویل عرصے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، سیاسی جبر، من مانے حراستوں اور دولت کے غیر مساوی استعمال کے الزامات کا سامنا رہا ہے۔ ملک تیل کی دولت سے مالا مال ہے، لیکن ناقدین کہتے ہیں کہ اس کا فائدہ محدود طبقے تک رہا جبکہ عام آبادی غربت اور محرومی سے دوچار ہے۔
پوپ لیو نے اپنے اس دورے میں صدر اوبیانگ پر براہِ راست تنقید نہیں کی، مگر ان کے بیانات میں اشارے واضح تھے۔ آمد کے وقت بھی انہوں نے افریقہ کے وسائل کے استحصال، بدعنوانی اور عدم مساوات جیسے مسائل کا ذکر کیا تھا۔ باتا جیل میں آ کر یہ پیغام مزید ذاتی اور انسانی رنگ اختیار کر گیا: انصاف ہو، مگر ایسا انصاف جس میں رحم، وقار اور بحالی کی گنجائش ہو۔
اس دورے کے سیاسی پہلو بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ حکومت کے بعض عہدیداروں نے اصرار کیا کہ ملک کا عدالتی اور جیل نظام بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے، جبکہ انسانی حقوق کے کارکنوں اور جلاوطن ناقدین نے خدشہ ظاہر کیا کہ پوپ کے دورے کو حکومت اپنی شبیہ بہتر بنانے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ دوسری طرف ویٹی کن کے نمائندوں کا مؤقف رہا کہ چرچ کا مقصد حکومتوں سے جنگ کرنا نہیں بلکہ مشکل حالات میں بھی انسانوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔
استوائی گنی کے کیتھولک باشندوں کے لیے یہ دورہ تاریخی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ 1982 میں پوپ جان پال دوم کے بعد یہ کسی پوپ کا پہلا دورہ تھا، اس لیے مقامی سطح پر اس کا خیرمقدم نہایت گرمجوشی سے کیا گیا۔ مگر باتا جیل کا انتخاب اس پورے سفر کا سب سے نمایاں اور معنی خیز لمحہ بن گیا، کیونکہ ایک ایسے ملک میں جہاں سرکاری علامتیں اور تقریبات اکثر سیاسی مفہوم اختیار کر لیتی ہیں، قیدیوں سے ملاقات اپنے آپ میں ایک غیر معمولی اشارہ تھی۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پوپ لیو نے باتا جیل میں کوئی بلند آہنگ سیاسی اعلان نہیں کیا، لیکن انہوں نے ایک خاموش اور مؤثر اخلاقی دباؤ ضرور ڈالا۔ قیدیوں کے سامنے کھڑے ہو کر، اور عزت، آزادی اور اجتماعی بھلائی کی بات کر کے، انہوں نے نظام کو براہِ راست للکارے بغیر ایک واضح پیغام دیا: ہر انسان، چاہے وہ قید میں ہی کیوں نہ ہو، اپنی بنیادی عزت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
