واشنگٹن — امریکی صدارتی محل ‘وائٹ ہاؤس’ نے مقبول ترین ایکشن سیریز ‘ریچر’ کے مرکزی اداکار ایلن رچسن کی جانب سے جیفری ایپسٹین کی خفیہ فائلز پبلک نہ کرنے پر ٹرمپ انتظامیہ پر کی جانے والی تنقید کا سخت جواب دیا ہے۔ ایک پوڈ کاسٹ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ایلن رچسن نے حکومت کی جانب سے شفافیت کے وعدوں کو پورا نہ کرنے پر مایوسی کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ ایپسٹین کیس سے جڑی تمام بقیہ دستاویزات کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سچائی کا سامنا کرنا کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پوری امریکی عوام کا حق ہے، چاہے ان کا تعلق ڈیموکریٹس سے ہو یا ریپبلکنز سے۔ انہوں نے حکومتی عہدیداروں کے بدلتے ہوئے بیانات کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
ہالی ووڈ اسٹار کے اس بیان پر وائٹ ہاؤس کے ترجمان ہیریسن فیلڈز نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے ان کے مطالبات کو یکسر مسترد کر دیا۔ میڈیا کو جاری ایک بیان میں ترجمان کا کہنا تھا کہ ایلن رچسن کو صرف اپنی "اداکاری تک محدود رہنا چاہیے” کیونکہ موجودہ انتظامیہ شوبز شخصیات کی آراء پر وقت ضائع کرنے کے بجائے امریکی عوام کے لیے حقیقی نتائج فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ یہ لفظی جنگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایپسٹین کیس کی تحقیقات اور عدالتوں میں بند دستاویزات کو کھولنے کے لیے امریکہ میں سیاسی و عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ پرائم ویڈیو کی ریکارڈ ساز سیریز ‘ریچر’ کے اداکار نے وائٹ ہاؤس کے اس جواب پر فی الحال کوئی عوامی ردِعمل نہیں دیا، تاہم اس واقعے نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
