وفاقی حکومت نے آئندہ پندرہ روز کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کر دیا ہے۔ پیٹرول استعمال کرنے والوں کو معمولی ریلیف ملا ہے، تاہم ٹرانسپورٹ اور مال برداری کے شعبے کو ڈیزل کی قیمت میں اضافے سے بڑا دھچکا لگا ہے۔
نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر ہو چکا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں 35 پیسے فی لیٹر کی کمی کے بعد نئی قیمت 248 روپے 38 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل—جو ملک میں مال بردار گاڑیوں اور زرعی مشینری کی ریڑھ کی ہڈی ہے—5 روپے 71 پیسے مہنگا ہو کر 266 روپے 7 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔
عام شہری کے لیے پیٹرول کی یہ معمولی کمی جیب پر کوئی خاص اثر نہیں ڈالے گی۔ البتہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے ڈیزل کی قیمت میں اضافہ تشویشناک ہے۔ پاکستان میں اشیائے خوردونوش اور خام مال کی ترسیل کا انحصار ڈیزل پر ہے، اس لیے اس اضافے کا بوجھ بالواسطہ طور پر عام صارف پر منتقل ہونے کا خدشہ ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اس ردوبدل کی بنیادی وجوہات ہیں۔ وزارت خزانہ نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے ساتھ مشاورت کے بعد یہ نرخ طے کیے ہیں۔ حکومت کا زور محصولات کے اہداف پورے کرنے پر ہے، چاہے عالمی سپلائی چین کی صورتحال کیسی ہی کیوں نہ ہو۔
یہ ایڈجسٹمنٹ ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب مقامی سطح پر ایندھن کی قیمتیں کچھ عرصے سے مستحکم تھیں۔ تاہم، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں متضاد رجحان حکومت کی اس کوشش کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ عوامی ریلیف اور پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدنی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی تگ و دو میں ہے۔
حکومت کا موقف ہے کہ یہ قیمتیں درآمدی لاگت کے مطابق ہیں، لیکن عوامی حلقوں میں تشویش اپنی جگہ موجود ہے۔ جب تک ڈیزل کی قیمتیں اوپر رہیں گی، ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کمی کا امکان کم ہے، جس کا براہِ راست اثر مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عام شہری کے کچن کے بجٹ پر پڑے گا۔
