سندھ طاس معاہدہ، جسے کبھی خطے میں سفارت کاری کی ایک بڑی کامیابی سمجھا جاتا تھا، اب اپنی ساکھ کھو رہا ہے۔ چھ دہائیوں پر محیط یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کے سامنے ایک مضبوط دیوار ثابت ہوتا رہا ہے، لیکن اب دریائے چناب اور جہلم پر بھارت کے جارحانہ انفراسٹرکچر نے اسے ایک نئے بحران کی نذر کر دیا ہے۔
نئی دہلی کی جانب سے معاہدے میں ترمیم کے لیے اسلام آباد کو بھیجے گئے نوٹس اس سخت گیر پالیسی کا عکاس ہیں۔ بھارت اب اس معاہدے کو تعاون کا ذریعہ نہیں، بلکہ اپنی داخلی توانائی کی ضروریات کے راستے میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔ کشن گنگا اور رتلے جیسے ہائیڈرو پاور منصوبوں پر کام کی رفتار یہ ظاہر کرتی ہے کہ بھارت پانی کے اشتراک کے فریم ورک کو عملی طور پر ختم کرنے کے درپے ہے۔
پاکستان کے لیے یہ معاملہ بقا کی جنگ ہے۔ ملکی معیشت کا 20 فیصد حصہ زراعت پر منحصر ہے اور تقریباً 40 فیصد افرادی قوت اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ مغربی دریاؤں میں پانی کا بہاؤ کم ہونا صرف بجلی کے بحران کا نام نہیں، بلکہ یہ کروڑوں لوگوں کی غذائی تحفظ کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ جب بھارت پانی کا رخ موڑتا ہے، تو اس کا انسانی اثر براہِ راست نیچے والے ملک پر پڑتا ہے۔
عالمی سطح پر بھارت خود کو "قواعد پر مبنی عالمی نظام” کا علمبردار کہتا ہے، لیکن سندھ طاس کے معاملے پر اس کا رویہ انتخابی ہے۔ جس طرح بھارت جنوبی بحیرہ چین میں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا مطالبہ کرتا ہے، اس کے برعکس سندھ طاس میں وہ دو طرفہ معاہدوں کو یکطرفہ طور پر بدلنے کا حق جتاتا ہے۔
تکنیکی ماہرین کے مطابق کشن گنگا ڈیم کا ڈیزائن ہی بنیادی تنازع ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ یہ ڈیزائن معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور بھارت کو اس بات کا اختیار دیتا ہے کہ وہ ضرورت کے وقت پانی کا بہاؤ روک کر اسے کنٹرول کر سکے۔ بھارت اسے تکنیکی مجبوری قرار دیتا ہے۔ پرمیننٹ انڈس کمیشن، جس کا کام ان تنازعات کو حل کرنا تھا، اب صرف سفارتی بیان بازی کا ایک پلیٹ فارم بن کر رہ گیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت خود کو ایک ذمہ دار علاقائی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن اس کی آبی پالیسی "طاقت کے اظہار” کے گرد گھومتی ہے۔ پانی کو اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ایک خطرناک جوا ہے۔ یہ پانی کے انتظام کے معاملے کو طاقت کے زیرو سم گیم میں بدل دیتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ پانی کے تنازعات کبھی صرف دریا کے کناروں تک محدود نہیں رہتے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہمالیہ کے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے دریائے سندھ کے نظام میں پانی کی دستیابی غیر یقینی ہو چکی ہے۔ اگر اس معاہدے کو ختم کیا گیا یا اسے بے اثر کر دیا گیا، تو خطے میں مذاکرات کا آخری پل بھی گر جائے گا۔
بھارت چند سو میگاواٹ بجلی تو حاصل کر سکتا ہے، لیکن اس کی قیمت علاقائی عدم استحکام کی صورت میں چکانی پڑے گی۔ ایک پیاسا پڑوسی مستقل سیکیورٹی چیلنج ہوتا ہے، اور پانی کو سیاسی ہتھیار بنا کر بھارت قلیل مدتی فائدے کے لیے طویل مدتی استحکام کو داؤ پر لگا رہا ہے۔
