حکومت نے جون کے مہینے کے لیے بجلی کے نرخوں میں اضافے نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام اس فیصلے کی وجہ ‘موثر پالیسی اقدامات’ کو قرار دے رہے ہیں، جس سے مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کو وقتی ریلیف ملے گا۔ تاہم، توانائی کے شعبے کے بنیادی مسائل بدستور اپنی جگہ موجود ہیں۔
پاور ڈویژن کے حکام نے منگل کو اس فیصلے کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا ہے کہ بجلی کی سپلائی چین میں اصلاحات اور بلوں کی وصولی میں بہتری کے باعث قیمتیں بڑھانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ گزشتہ کئی ماہ سے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے گردشی قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے نرخ بڑھانے کا دباؤ تھا، لیکن حکومت نے فی الحال براہ راست ٹیکس کے بجائے انتظامی بہتری پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔
حکومت جن ‘پالیسی اقدامات’ کا ذکر کر رہی ہے، ان میں بجلی چوری کے خلاف کریک ڈاؤن اور کچھ پاور پلانٹس کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی شامل ہے۔ اگرچہ ان اقدامات سے وقتی طور پر کیش فلو میں بہتری آئی ہے، مگر توانائی کے ماہرین اسے کافی نہیں سمجھتے۔ ملک کا گردشی قرضہ 2.6 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جس کی بڑی وجہ نجی پاور پلانٹس کو ادا کی جانے والی ‘کیپیسٹی پیمنٹس’ ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیداواری لاگت کو کم کیے بغیر نرخوں کو منجمد رکھنا محض ایک عارضی حل ہے۔ توانائی کی وزارت کے ایک سابق مشیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ "انتظامی تبدیلیوں سے ساختی خسارے کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ جولائی میں جب نئے مالیاتی جائزے کا عمل شروع ہوگا، تو قیمتیں بڑھانے کا دباؤ دوبارہ سر اٹھائے گا۔”
اس تنقید کے باوجود، یہ فیصلہ عام صارفین کے لیے ایک بڑی راحت ہے۔ ملک میں مہنگائی کی شرح اب بھی دو ہندسوں میں ہے، اور ایسے میں بجلی کے بلوں میں مزید اضافہ عوامی غم و غصے کو بڑھا سکتا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اگلے سہ ماہی میں بھی اس نظم و ضبط کو برقرار رکھ پائے گی؟ فی الحال پاور سیکٹر اسی امید پر کھڑا ہے کہ سخت نفاذ اور نگرانی کے ذریعے قیمتوں میں اضافے سے بچا جا سکے گا۔
