دنیا بھر میں سطحِ سمندر پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بلند ہو رہی ہے، اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سمندروں کا گرم ہونا اس اضافے کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ نئی موسمیاتی رپورٹس کے مطابق 1990 کی دہائی کے آغاز کے مقابلے میں سطحِ سمندر بلند ہونے کی رفتار تقریباً دگنی ہو چکی ہے، جبکہ سمندری حدت میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
ناسا سے منسلک سیٹلائٹ تجزیے کے مطابق عالمی سطحِ سمندر بلند ہونے کی رفتار 1993 میں تقریباً 2.1 ملی میٹر سالانہ تھی، جو 2024 تک بڑھ کر تقریباً 4.5 ملی میٹر سالانہ ہو گئی۔ بظاہر یہ اعداد چھوٹے لگتے ہیں، مگر کئی دہائیوں میں یہی اضافہ بڑے خطرے میں بدل جاتا ہے۔ 1990 کی دہائی سے سیٹلائٹ نگرانی شروع ہونے کے بعد سے سمندر کی سطح مجموعی طور پر 10 سینٹی میٹر سے زیادہ بلند ہو چکی ہے۔
وجہ صاف ہے، مگر پریشان کن۔ زمین گرم ہوتی ہے تو سمندر گرین ہاؤس گیسوں سے پھنسنے والی اضافی حرارت کا بڑا حصہ جذب کر لیتا ہے۔ جب سمندری پانی گرم ہوتا ہے تو پھیلتا ہے، اور اسی پھیلاؤ سے سطحِ سمندر بلند ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ گلیشیئرز اور برفانی چادروں کا پگھلنا بھی سمندروں میں مزید پانی شامل کرتا ہے۔
یونیسکو کے مطابق سمندر گرین ہاؤس گیسوں سے پیدا ہونے والی اضافی حرارت کا تقریباً 90 فیصد جذب کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرم ہوتے سمندر اب عالمی سطحِ سمندر میں اضافے کے تقریباً 40 فیصد کے ذمہ دار ہیں، جبکہ گزشتہ 30 برس میں سطحِ سمندر بلند ہونے کی رفتار دگنی ہو چکی ہے اور اس دوران تقریباً 9 سینٹی میٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی تازہ رپورٹ بھی خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں سمندری حرارت 66 سالہ مشاہداتی ریکارڈ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جو 2024 کے ریکارڈ سے بھی زیادہ تھی۔ 2005 سے 2025 کے دوران سمندر گرم ہونے کی رفتار 1960 سے 2005 کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ رہی۔
یہ صرف چارٹ پر پانی کی لکیر اوپر جانے کا معاملہ نہیں۔ بلند سطحِ سمندر ساحلی سیلاب کو زیادہ عام بناتی ہے، طوفانی لہروں کو خطرناک کرتی ہے، ساحلی کٹاؤ بڑھاتی ہے اور نمکین پانی کو میٹھے پانی کے ذخائر میں داخل کر سکتی ہے۔ نشیبی علاقے، جزیرہ نما ریاستیں اور ساحلی شہر سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔
یہ خطرہ ہر جگہ ایک جیسا نہیں۔ بعض ساحلی علاقوں میں زمین دھنسنے، سمندری کرنٹس یا علاقائی ہواؤں کی وجہ سے سطحِ سمندر عالمی اوسط سے زیادہ تیزی سے بلند ہو سکتی ہے۔ اسی لیے دو ساحلی شہروں کو ایک ہی عالمی رجحان کے باوجود مختلف سطح کے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ تیزی ایک طویل مدتی وارننگ ہے۔ سالانہ اضافہ کم دکھائی دے سکتا ہے، مگر رجحان واضح ہے: سمندر گرم ہو رہے ہیں، پھیل رہے ہیں اور ساحلی آبادیوں پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔
سمندر کے قریب رہنے والے کروڑوں لوگوں کے لیے یہ اب دور کا ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہا۔ یہ منصوبہ بندی، انفراسٹرکچر، پانی، رہائش اور بقا کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
