سکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان میں ایک فوجی چوکی کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے خودکش حملہ آور کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے روک دیا، جس کے نتیجے میں فائرنگ کے تبادلے میں سات شہری زخمی ہوگئے۔
یہ واقعہ لدھا کے علاقے میں پیش آیا، جہاں گزشتہ چھ ماہ کے دوران عسکری سرگرمیوں میں مقامی سطح پر اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عسکری ذرائع کے مطابق حملہ آور کو اہم تنصیب تک پہنچنے سے قبل ہی ہلاک کر دیا گیا، تاہم اس کے بارودی جیکٹ کے دھماکے سے قریبی آبادی متاثر ہوئی اور چھروں کے لگنے سے شہری زخمی ہوئے۔
زخمی ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر وانا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق تمام زخمیوں کی حالت مستحکم ہے، تاہم دو افراد کو بارودی صدمے کے باعث نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
مقامی پولیس حکام نے بتایا کہ دھماکے کے فوراً بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ بم ڈسپوزل یونٹس نے صبح بھر علاقے کی تلاشی لی تاکہ کسی ممکنہ مزید دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کو ختم کیا جا سکے۔ اب تک کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم اس طرزِ عمل سے سرحدی علاقوں میں سرگرم علیحدہ گروہوں کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خیبر پختونخوا میں سکیورٹی الرٹس میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق عسکریت پسند چھوٹے اور دور دراز چوکیوں کو نشانہ بنا کر سکیورٹی وسائل کو منتشر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
لدھا کے رہائشیوں کے لیے یہ دھماکہ ایک بار پھر اس خطے کی نازک سکیورٹی صورتحال کی یاد دہانی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن جاری رکھا ہوا ہے اور حملہ آور کے نیٹ ورک اور دھماکہ خیز مواد کی ترسیل کے راستے کی تحقیقات جاری ہیں۔
