کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کے روز کاروبار کے اختتام پر مندی رہی، جہاں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور علاقائی صورتحال کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے خدشات کے باعث مختلف اہم شعبوں میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔
بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 346.57 پوائنٹس یا 0.19 فیصد کمی کے بعد 181,430.02 پوائنٹس پر بند ہوا۔ کاروباری دن کے دوران انڈیکس 181,647.27 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک گیا جبکہ کم ترین سطح 180,620.08 پوائنٹس رہی۔
کاروبار کے دوران سرمایہ کار محتاط رہے اور ہفتے کے اختتام سے قبل اپنی پوزیشنز کم کرنے کو ترجیح دی۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے کے باوجود مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں ممکنہ مزید بگاڑ نے مارکیٹ کے مجموعی رجحان پر دباؤ برقرار رکھا۔
آٹو موبائل اسمبلی، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سمیت کئی بڑے شعبوں میں فروخت نے انڈیکس کو منفی رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے بھی سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا، کیونکہ طویل علاقائی کشیدگی کے نتیجے میں مہنگائی، توانائی کی قیمتوں اور ملکی معیشت پر ممکنہ اثرات کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب کے مطابق مارکیٹ میں ملا جلا رجحان رہا، تاہم کاروبار کے دوسرے حصے میں سرمایہ کاروں نے ہفتہ وار تعطیل سے قبل اپنی پوزیشنز کم کیں، جس کے نتیجے میں انڈیکس معمولی مندی کے ساتھ بند ہوا۔
ان کے مطابق مارکیٹ میں آنے والی کمی بنیادی ملکی معاشی صورتحال میں خرابی کے بجائے سرمایہ کاروں کے محتاط اور رسک سے گریز پر مبنی رویے کی عکاسی کرتی ہے۔
کارپوریٹ محاذ پر میری انرجیز نے مالی سال 2026 کے دوران 87 ارب روپے کی ریکارڈ آمدن رپورٹ کی، جبکہ کمپنی کی چوتھی سہ ماہی کی فی شیئر آمدن میں سالانہ بنیادوں پر نمایاں اضافہ ہوا۔ کمپنی کی کارکردگی میں تیل کی بلند قیمتوں، ایچ آر ایل فیلڈ سے پیداوار میں اضافے، اسپن وام سے پیداوار کے آغاز اور ٹیکس ریورسل نے کردار ادا کیا۔
حب پاور، میری انرجیز، سنرجیکو پی کے، غنی گلاس اور بینک آف پنجاب نے مجموعی طور پر انڈیکس کو 187 پوائنٹس کا سہارا دیا، تاہم اینگرو ہولڈنگز، یو بی ایل، ایم سی بی، اینگرو فرٹیلائزر اور فاطمہ فرٹیلائزر میں فروخت نے ان فوائد کو ختم کردیا۔
علی نجیب نے کہا کہ آئندہ دنوں میں مارکیٹ محدود دائرے میں رہ سکتی ہے کیونکہ سرمایہ کار نئی معاشی اور کارپوریٹ پیش رفت کے منتظر ہیں۔ ان کے مطابق جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی، خام تیل کی مستحکم قیمتیں اور کمپنیوں کے بہتر مالی نتائج مارکیٹ کے لیے مثبت ثابت ہوسکتے ہیں، تاہم بلند سطح پر منافع کے حصول کے باعث اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
کاروباری حجم بھی گزشتہ روز کے مقابلے میں کم رہا۔ جمعہ کو مجموعی طور پر 716 ملین حصص کا کاروبار ہوا جبکہ جمعرات کو 793.3 ملین حصص کا کاروبار ریکارڈ کیا گیا۔ حصص کے کاروبار کی مجموعی مالیت 34.1 ارب روپے رہی۔
سنرجیکو پی کے کاروباری حجم کے اعتبار سے سرفہرست رہی، جس کے 161.2 ملین حصص کا لین دین ہوا۔ کمپنی کے حصص 69 پیسے اضافے کے بعد 11.94 روپے پر بند ہوئے۔
مجموعی طور پر 492 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں 207 کے بھاؤ میں اضافہ، 260 میں کمی جبکہ 25 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
