اسپاٹ گولڈ معمولی کمی کے ساتھ تقریباً 4,528 ڈالر فی اونس کے قریب ٹریڈ کر رہا تھا، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز میں بھی ہلکی کمی دیکھی گئی۔ قیمتوں میں بڑی تبدیلی نہیں آئی، مگر مارکیٹ کا مزاج صاف دکھائی دے رہا ہے: سرمایہ کار ایک طرف سفارتی پیش رفت دیکھ رہے ہیں، دوسری طرف مہنگائی اور شرحِ سود کا دباؤ بھی نظر انداز نہیں کر رہے۔
عام طور پر جغرافیائی کشیدگی بڑھنے پر سونے کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ سرمایہ کار اسے محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں۔ لیکن امریکا ایران معاہدے کی امید نے -کو کچھ حد تک کم کیا ہے۔ اس کے باوجود توانائی کی قیمتوں اور مہنگائی کے خدشات سونے کو مکمل دباؤ میں آنے سے بچا رہے ہیں۔
سونے پر سب سے بڑا دباؤ امریکی شرحِ سود کے امکانات سے آ رہا ہے۔ جب امریکی بانڈ بڑھتی ہیں تو سونا نسبتاً کم پرکشش ہو جاتا ہے، کیونکہ سونے پر کوئی منافع یا سود نہیں ملتا۔ اسی طرح مضبوط ڈالر بھی خریداروں کے لیے سونے کو مہنگا بنا دیتا ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں مقامی کرنسی کمزور ہے۔
امریکی حکام کی جانب سے یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ اگر ایران سے متعلق کشیدگی کم ہوتی ہے تو توانائی کی قیمتوں اور بانڈ میں نرمی آ سکتی ہے۔ تاہم مرکزی بینکوں کا رویہ ابھی محتاط ہے، کیونکہ مہنگائی کے خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
مارکیٹ میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ فیڈرل ریزرو آئندہ مہینوں میں شرحِ سود کے بارے میں کیا راستہ اختیار کرے گا۔ اگر مہنگائی توقعات سے زیادہ رہی تو پالیسی مزید سخت رہ سکتی ہے، اور یہ صورتحال سونے کے لیے منفی سمجھی جاتی ہے۔
فی الحال سونا دو مختلف سمتوں کے دباؤ میں پھنسا ہوا ہے۔ سفارتی امیدیں محفوظ سرمایہ کاری کی طلب کم کر رہی ہیں، جبکہ مہنگائی، توانائی کی قیمتوں اور عالمی بے یقینی کے خدشات اسے زیادہ نیچے جانے سے روک رہے ہیں۔
چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم کی مارکیٹ میں بھی محتاط رجحان دیکھا گیا۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ سونے کی اگلی واضح سمت اس بات پر منحصر ہو گی کہ امریکا ایران مذاکرات میں حقیقی پیش رفت ہوتی ہے یا نہیں، اور امریکی معاشی اعداد و شمار فیڈرل ریزرو کو کس حد تک سخت پالیسی برقرار رکھنے کا جواز دیتے ہیں۔
