متحدہ عرب امارات کا درہم آج 18 مئی کو 75.82 پاکستانی روپے پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی قدر میں معمولی اتار چڑھاؤ کے ساتھ ایک نازک استحکام دیکھا جا رہا ہے۔
بیرونِ ملک سے رقوم بھیجنے والے خاندانوں کے لیے یہ شرح کسی بڑی ریلیف کا باعث نہیں ہے۔ اگرچہ پچھلے مہینوں کی طرح درہم کی قیمت میں اچانک کوئی بڑا اچھال نہیں آیا، مگر موجودہ قیمت اشیائے خوردونوش کی درآمدی لاگت اور خلیجی ممالک سے آنے والی رقوم پر انحصار کرنے والے گھرانوں کے بجٹ پر بدستور بوجھ بنی ہوئی ہے۔
مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سخت مانیٹری پالیسی اس جمود کی بنیادی وجہ ہے۔ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اتنے کم ہیں کہ وہ مشکل سے دو ماہ کی درآمدات کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مرکزی بینک روپے کی قدر میں کسی بھی نمایاں بہتری کی اجازت دینے سے گریزاں ہے۔ درہم اور روپے کا موجودہ تبادلہ کسی قدرتی مارکیٹ ڈیمانڈ کے بجائے صرف پالیسی مداخلت کے تابع ہے۔
کراچی میں کرنسی مارکیٹ کے ایک تاجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "مارکیٹ فی الحال ایک ٹھہراؤ کا شکار ہے۔ درہم کی مانگ مستقل ہے لیکن مارکیٹ میں لیکویڈیٹی بہت کم ہے۔ تاجر کسی بھی قسم کا بڑا رسک لینے سے ڈر رہے ہیں کیونکہ سب کی نظریں اگلی مالیاتی رپورٹس پر ہیں۔”
یہ ظاہری خاموشی دراصل گہرے ساختی مسائل پر پردہ ڈالے ہوئے ہے۔ متحدہ عرب امارات سے آنے والی ترسیلاتِ زر، پاکستان کے لیے غیر ملکی کرنسی کا سب سے بڑا ذریعہ اور ادائیگیوں کے بحران کے خلاف ایک اہم ڈھال ہیں۔ جب روپے کی قدر گرتی ہے، تو ان ترسیلات کی قوتِ خرید کم ہو جاتی ہے، جس کا براہِ راست اثر لاہور، راولپنڈی اور کراچی جیسے شہروں میں متوسط طبقے کے گھرانوں کے ماہانہ اخراجات پر پڑتا ہے۔
آج کی ٹریڈنگ میں نسبتاً سکون کے باوجود، معاشی منظرنامہ بدستور غیر یقینی ہے۔ پاکستان میں مہنگائی کی شرح درہم کے مقابلے میں روپے کی کسی بھی معمولی بہتری کو نگل رہی ہے۔ 75.82 کی موجودہ شرح معاشی بحالی کی علامت نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی معیشت کی تصویر ہے جو جمود کا شکار ہے اور کسی بڑے معاشی جھٹکے یا پالیسی میں تبدیلی کی منتظر ہے۔
