صوابی: خیبر پختونخوا کی اہم صنعتی بستی گدون امازئی انڈسٹریل اسٹیٹ توانائی کے بحران، بلند ٹیرف، مہنگے قرضوں، ٹیکسوں کے دباؤ اور حکومتی عدم توجہی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہو گئی ہے۔ صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مزید صنعتی یونٹس بند ہو سکتے ہیں، جس سے روزگار اور سرمایہ کاری دونوں متاثر ہوں گے۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق گدون انڈسٹریل اسٹیٹ میں اس وقت 165 یونٹس فعال ہیں، جن میں سے تقریباً 80 یونٹس چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس 90 سے زائد صنعتی یونٹس مکمل طور پر بند ہیں، جبکہ 47 یونٹس زیرِ تعمیر ہیں۔ یہ صورتحال ایک ایسے صنعتی مرکز کے لیے تشویشناک ہے جسے کبھی خیبر پختونخوا میں روزگار، پیداوار اور سرمایہ کاری کے بڑے ذریعے کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
صنعت کاروں کے مطابق بجلی کی طویل بندش سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ بار بار لوڈشیڈنگ سے پیداواری عمل متاثر ہوتا ہے، آرڈرز وقت پر مکمل نہیں ہو پاتے اور مشینری کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ دوسری طرف بجلی کے بلند نرخ مقامی صنعت کو مہنگا بنا رہے ہیں، جس کی وجہ سے گدون کی فیکٹریاں ملک کے دیگر صنعتی مراکز اور علاقائی حریفوں کا مقابلہ کرنے میں مشکل محسوس کر رہی ہیں۔
گیس کی قلت نے بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ کئی صنعتی یونٹس ایسے ہیں جنہیں مسلسل پیداوار کے لیے گیس کی مستحکم فراہمی درکار ہوتی ہے، مگر غیر یقینی سپلائی کی وجہ سے ان کا کام متاثر ہو رہا ہے۔ صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ جب توانائی ہی دستیاب نہ ہو، یا اتنی مہنگی ہو کہ پیداوار کی لاگت قابو سے باہر نکل جائے، تو فیکٹری چلانا آسان نہیں رہتا۔
مہنگی بینک فنانسنگ بھی صنعتوں پر بھاری پڑ رہی ہے۔ بلند شرح سود کے باعث خام مال خریدنے، مشینری اپ گریڈ کرنے یا بند یونٹس دوبارہ چلانے کے لیے قرض لینا مشکل ہو گیا ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعت کار خاص طور پر متاثر ہیں، کیونکہ ان کے پاس نہ تو بڑے مالی ذخائر ہوتے ہیں اور نہ ہی سستی فنانسنگ تک آسان رسائی۔
گدون انڈسٹریل اسٹیٹ میں ٹیکسٹائل، کیمیکل، پلاسٹک، فوڈ پروسیسنگ، گھی، اسٹیل اور پیکیجنگ سمیت مختلف شعبوں کی صنعتیں قائم ہیں۔ ان یونٹس کی بندش یا جزوی فعالیت کا اثر صرف مالکان تک محدود نہیں رہتا۔ مزدوروں کی شفٹیں کم ہوتی ہیں، ٹرانسپورٹرز کو کام کم ملتا ہے، خام مال فراہم کرنے والے متاثر ہوتے ہیں اور قریبی بازاروں میں بھی کاروباری سرگرمی سست پڑ جاتی ہے۔
مقامی آبادی کے لیے یہ بحران براہِ راست روزگار کا مسئلہ ہے۔ ایک بند فیکٹری کا مطلب ہے کئی خاندانوں کی آمدن ختم ہونا۔ جو فیکٹریاں نصف گنجائش پر چل رہی ہیں، وہاں بھی ملازمین کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ہنرمند مزدور دوسرے شہروں کا رخ کر سکتے ہیں، جس سے علاقے کی صنعتی بنیاد مزید کمزور ہو جائے گی۔
صنعتی حلقوں کا شکوہ ہے کہ گدون کو وہ حکومتی توجہ نہیں ملی جس کی اسے ضرورت تھی۔ یہ صنعتی بستی ماضی میں خیبر پختونخوا کی صنعتی ترقی کے لیے ایک اہم منصوبہ سمجھی جاتی تھی، مگر وقت کے ساتھ بنیادی ڈھانچے، توانائی کی فراہمی اور پالیسی سپورٹ کے مسائل بڑھتے گئے۔ صنعت کاروں کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر رابطے کا فقدان بھی مسائل کے حل میں رکاوٹ ہے۔
کاروباری رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گدون انڈسٹریل اسٹیٹ کے لیے بجلی اور گیس کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے، توانائی کے نرخ قابلِ برداشت سطح پر لائے جائیں، ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے اور صنعتوں کو سستی فنانسنگ فراہم کی جائے۔ ان کے مطابق صرف بیانات یا دوروں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا؛ عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
خیبر پختونخوا پہلے ہی صنعتی سرمایہ کاری کے حوالے سے کئی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، جن میں سیکیورٹی خدشات، بندرگاہوں سے فاصلے، لاجسٹک لاگت اور محدود صنعتی انفراسٹرکچر شامل ہیں۔ ایسے میں گدون جیسے بڑے صنعتی مرکز کا بحران سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔
صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ گدون آج بھی بحال ہو سکتا ہے۔ یہاں زمین موجود ہے، تجربہ کار مزدور ہیں، پہلے سے قائم صنعتی یونٹس ہیں اور پیداوار کی تاریخ بھی موجود ہے۔ مگر ان کے بقول صرف صلاحیت کافی نہیں ہوتی؛ فیکٹریوں کو چلانے کے لیے بجلی، گیس، سرمایہ اور واضح حکومتی پالیسی درکار ہوتی ہے۔
فی الحال گدون امازئی انڈسٹریل اسٹیٹ ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر حکومت نے فوری اور ہدفی اقدامات کیے تو یہ صنعتی بستی دوبارہ روزگار اور پیداوار کا مرکز بن سکتی ہے۔ لیکن اگر مسائل کو اسی طرح نظر انداز کیا گیا تو بند یونٹس کی تعداد بڑھ سکتی ہے، اور خیبر پختونخوا کی صنعتی ترقی کو ایک اور بڑا دھچکا لگے گا۔
