جہانگیر پوری کی تنگ گلیوں میں منگل کی دوپہر تک درجہ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا۔ دہلی کے اس گنجان آباد علاقے میں، جہاں ٹین کی چھتوں والے مکانات قطار در قطار کھڑے ہیں، گرمی محض موسم کا تغیر نہیں بلکہ ایک جان لیوا چیلنج بن چکی ہے۔
یہاں کے رہائشیوں کا دن پانی کے حصول کی کشمکش سے شروع ہوتا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کی سپلائی بے قاعدہ ہے، جو اکثر دن کے سب سے گرم پہر میں آتی ہے۔ بجلی کے پنکھے تو دور کی بات، ایئر کنڈیشننگ کا تصور بھی یہاں کے مکینوں کے لیے محال ہے۔ خاندان دوپہر کا وقت گیلے کپڑوں کے نیچے گزارنے پر مجبور ہیں، جہاں فرش پر بیٹھ کر وہ اس گرم ہوا سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں جو دھاتی چھتوں سے ٹکرا کر کمروں کو تندور بنا دیتی ہے۔
شہری ماہرین اسے ‘اربن ہیٹ آئی لینڈ’ کا اثر قرار دیتے ہیں۔ دہلی کے پوش اور سرسبز علاقوں کے مقابلے میں جہانگیر پوری جیسے علاقے زیادہ گرم ہیں۔ کنکریٹ کی کثرت، درختوں کا فقدان اور لوہے کی چادروں سے بنی چھتیں اس شدت میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔ حالیہ ہیٹ ویو کے دوران، ان مکانات کے اندرونی درجہ حرارت کو 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دیہاڑی دار مزدور رمیش کمار، جو دس بائی دس کے ایک کمرے میں پانچ رشتہ داروں کے ساتھ رہتے ہیں، کہتے ہیں، "اگر آپ چھت کو ہاتھ لگائیں تو وہ جلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ہم پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے باہر دھوپ میں کام کرتے ہیں، اور جب گھر لوٹتے ہیں تو کمرہ ہمیں سانس نہیں لینے دیتا۔ یہاں کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔”
مقامی کلینکس کی رپورٹس میں ہیٹ اسٹروک، شدید پانی کی کمی اور سانس کے امراض میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تاہم، بہت سے رہائشی ہسپتال جانے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ ایک دن کا کام چھوٹنے کا مطلب ہے کہ گھر کا چولہا نہیں جل سکے گا۔
شہری انتظامیہ نے چند مقامات پر ‘کولنگ سینٹرز’ اور پانی کی سبیلیں قائم کی ہیں، لیکن یہ سہولیات بستی کے گنجان ترین حصوں تک نہیں پہنچ پائیں۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ عارضی اقدامات بنیادی مسائل کا حل نہیں ہیں، کیونکہ مسئلہ ناقص رہائشی انفراسٹرکچر اور طبقاتی فرق کا ہے، جو دہلی کی گرمی کو دو مختلف دنیاؤں میں بانٹ دیتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ درجہ حرارت کم از کم ایک ہفتے تک اسی طرح "شدید” رہے گا۔ جہانگیر پوری کے مکینوں کے لیے یہ پیش گوئی محض ایک عدد نہیں، بلکہ ان راتوں کا شمار ہے جو انہیں ایسے کمروں میں گزارنی ہیں جو سورج ڈوبنے کے بعد بھی ٹھنڈے ہونے سے انکاری ہیں۔
