بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 12 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق یہ کارروائیاں صوبے میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کے پیشِ نظر کی گئیں۔
فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ ان آپریشنز کا مقصد اُن مقامی عسکریت پسند نیٹ ورکس کو ختم کرنا تھا جو حالیہ دنوں میں سیکیورٹی تنصیبات اور شہریوں کو نشانہ بنانے میں ملوث تھے۔ کارروائیوں کے دوران فورسز نے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا ہے، تاہم آئی ایس پی آر نے ان کارروائیوں کے مخصوص مقامات اور وقت کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
یہ کارروائیاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب بلوچستان ایک غیر مستحکم سیکیورٹی صورتحال سے دوچار ہے۔ صوبے میں حالیہ مہینوں کے دوران تشدد میں اضافہ ہوا ہے، جہاں علیحدگی پسند گروپوں اور عسکریت پسند تنظیموں نے پولیس چیک پوسٹوں اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو تسلسل کے ساتھ ہدف بنایا ہے۔
فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں علاقے میں امن و امان بحال کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں۔ اگرچہ آئی ایس پی آر نے ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد کی تصدیق کی ہے، لیکن ان جھڑپوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کو ہونے والے کسی ممکنہ نقصان پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، ان کارروائیوں کی شدت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سیکیورٹی فورسز اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لا رہی ہیں اور ردعمل دینے کے بجائے اب ہدف بنا کر پیشگی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ تاہم، ان آپریشنز کا تسلسل یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ کیا صرف فوجی کارروائیوں سے علاقے میں دیرپا امن ممکن ہے، جبکہ سیاسی و سماجی محرومیاں بدستور بے چینی کا سبب بنی ہوئی ہیں۔
فی الحال، سیکیورٹی فورسز کا موقف ہے کہ ان کی توجہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر ختم کرنے پر مرکوز ہے تاکہ مقامی آبادی کے تحفظ اور جاری ترقیاتی منصوبوں کو یقینی بنایا جا سکے۔
جن علاقوں میں یہ کارروائیاں کی گئیں، وہاں سیکیورٹی فورسز نے حصار قائم کر رکھا ہے اور مفرور دہشت گردوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
