وفاقی حکومت نے آئندہ پندرہ روز کے لیے پٹرول کی قیمت 275 روپے فی لیٹر پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیر کی رات وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی کے باوجود حکومت نے مقامی سطح پر ریلیف دینے کے بجائے موجودہ نرخوں کو برقرار رکھنے کو ترجیح دی۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مقرر کردہ ٹیکس اہداف کے حصول کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
ایک سرکاری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہمیں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور ملکی ریونیو اہداف کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔ فی الحال قیمتوں میں کمی سے پیدا ہونے والا مالیاتی خلا پورا کرنا ممکن نہیں تھا۔”
اس فیصلے کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بھی 282 روپے فی لیٹر پر مستحکم ہے۔
عام شہری کے لیے قیمتوں میں یہ جمود گزشتہ چند ماہ کی اتار چڑھاؤ بھری صورتحال کے بعد ایک وقتی سکون ضرور ہے، تاہم ٹرانسپورٹ یونینز نے حکومتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ پٹرولیم لیوی کے ذریعے بجٹ خسارہ پورا کرنے کی پالیسی نے لاجسٹکس کے اخراجات بڑھا دیے ہیں، جس کا براہِ راست اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک تنگ دائرے میں رہی ہیں، جس سے حکومت کے پاس معمولی کمی یا لیوی میں اضافے کی گنجائش موجود تھی۔ حکومت نے قیمتوں کو نہ چھیڑ کر اپنے پرائمری سرپلس اہداف کو اولیت دی۔
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات بارہ بجے سے ہو چکا ہے۔ اب حکومتی مشینری کی توجہ اگست میں ہونے والے بجٹ جائزے پر مرکوز ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت عوامی قوتِ خرید پر مزید بوجھ ڈالے بغیر قیمتوں کو اسی سطح پر برقرار رکھ سکے گی؟ اس کا جواب آنے والے دنوں میں عالمی منڈی کے رجحانات سے ہی ملے گا۔
