پورٹس ماؤتھ، برطانیہ: برطانوی وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کا برطانیہ کا دورہ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ برطانیہ یوکرین کی مکمل حمایت جاری رکھے گا اور روس کے خلاف جاری جنگ میں کیف کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
پورٹس ماؤتھ کے بحری اڈے پر صدر زیلنسکی کا استقبال کرتے ہوئے برنہم نے کہا کہ وہ وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے بعد جن پہلے غیر ملکی رہنما کی میزبانی کر رہے ہیں، وہ زیلنسکی ہیں، جو برطانیہ کے غیر متزلزل مؤقف کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ یوکرین کے ساتھ کیے گئے تمام وعدے پورے کرے گا اور ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے، ڈرون ٹیکنالوجی کی مشترکہ تیاری اور الیکٹرانک جنگی صلاحیتوں میں اضافے پر تبادلۂ خیال کیا۔ برطانیہ نے اعلان کیا کہ وہ اپنے جدید "اسٹون کلوک” الیکٹرانک وارفیئر سسٹم کی ٹیکنالوجی یوکرین کو منتقل کرے گا تاکہ اسے مقامی سطح پر تیار کیا جا سکے اور روسی ڈرونز سے دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
وزیرِ اعظم برنہم نے اس موقع پر کہا کہ برطانیہ "جب تک ضرورت ہوگی” یوکرین کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ روس کو اس بات میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ برطانیہ ایک منصفانہ اور دیرپا امن کے قیام کے لیے یوکرین کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
صدر زیلنسکی نے برطانوی حکومت کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برنہم کی جانب سے یوکرین کو اپنی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح بنانا عالمی یکجہتی کا اہم پیغام ہے۔
دونوں رہنماؤں نے برطانیہ میں تربیت حاصل کرنے والے 200 سے زائد یوکرینی فوجیوں سے بھی ملاقات کی، جہاں جاری فوجی تربیتی پروگرام اور دفاعی تعاون کا جائزہ لیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ پروگرام یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مؤثر بنانے اور جنگی تیاری کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
