میرپور: آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے تحت میرپور ڈویژن میں پیر کے روز پولنگ پرامن طور پر اختتام پذیر ہوگئی، تاہم مختلف حلقوں میں جھڑپوں، دھاندلی کے الزامات اور سیاسی کشیدگی نے انتخابی عمل کو متاثر کیا۔
میرپور، کوٹلی اور بھمبر اضلاع میں صبح 8 بجے شروع ہونے والی پولنگ شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہی۔ ووٹرز کی بڑی تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، جبکہ کئی مقامات پر سیاسی کارکنوں کے درمیان تلخ کلامی اور معمولی جھڑپوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے کوٹلی کے حلقہ ایل اے-12 میں مخالف امیدوار کے مسلح حامیوں پر ووٹرز کو ہراساں کرنے اور انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔ پارٹی نے آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ انتخابی عمل کو شفاف اور غیر جانبدار بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ پی پی پی نے یہ شکایت بھی کی کہ موبائل فون سروس کی سست رفتاری کے باعث انتخابی عملہ، میڈیا نمائندگان اور ہنگامی خدمات کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے پر مختلف حلقوں میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے، جبکہ استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) نے بھی ضلع بھمبر میں انتخابی بے ضابطگیوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ان الزامات پر تاحال تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
کوٹلی ضلع کی تحصیل نکیال میں انتخابی کشیدگی کے دوران ایک افسوسناک واقعہ بھی پیش آیا، جہاں پیپلز پارٹی کے مطابق ان کا ایک سیاسی کارکن جاں بحق ہوگیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی جبکہ متعلقہ حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولنگ کے دوران حساس پولنگ اسٹیشنز پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری تعینات رہی تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔ بیشتر علاقوں میں ووٹنگ کا عمل پرامن رہا، تاہم چند مقامات پر پیش آنے والے واقعات پر سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں رکھا۔
پولنگ ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج رات گئے تک موصول ہونے کی توقع ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق میرپور ڈویژن کے نتائج آزاد جموں و کشمیر کی آئندہ قانون ساز اسمبلی کی مجموعی سیاسی صورتحال پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔
