لندن میں جولائی کے ایک منگل کو درجہ حرارت 32 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو گزشتہ تین برسوں میں تیسری شدید ہیٹ ویو تھی۔ دہائیوں تک انگلستان کی گرمیوں کا مطلب ہلکی بوندا باندی اور کبھی کبھار نکلنے والی دھوپ ہوا کرتی تھی، لیکن اب یہ موسمی توازن مکمل طور پر بگڑ چکا ہے۔
برطانوی محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار ایک تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں: برطانیہ میں ریکارڈ کیے گئے دس گرم ترین سال 2003 کے بعد ہی سامنے آئے ہیں۔ یہ محض چند گرم دنوں کی بات نہیں، بلکہ یہ موسمیاتی تبدیلی کا ایک ایسا بنیادی تغیر ہے جس نے ملک کو اپنے انفراسٹرکچر، زراعت اور اپنی پہچان پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
یونیورسٹی آف ریڈنگ کی کلائمیٹ ریسرچر ڈاکٹر ایلینا روسی کہتی ہیں، "ہمارا انفراسٹرکچر اس شدت کے لیے نہیں بنا۔ ہمارے گھروں کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ گرمی کو اندر ہی روک لیتے ہیں، شدید درجہ حرارت سے ریل کی پٹریاں ٹیڑھی ہو رہی ہیں، اور ہمارا پانی کا انتظام اس حقیقت سے دہائیوں پیچھے ہے کہ اب خشک سالی معمول بنتی جا رہی ہے۔”
اس کے اثرات صرف حدت تک محدود نہیں ہیں۔ گزشتہ برس ریکارڈ توڑ گرمی نے قومی معیشت کو پیداواری نقصان اور ہنگامی مرمت کی مد میں کروڑوں کا نقصان پہنچایا۔ دوسری جانب، کسان روایتی فصلوں کو چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں کیونکہ مٹی میں نمی بارشوں کے باوجود تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ وہ "سرسبز و شاداب سرزمین” اب جولائی کے وسط تک بھوری اور خشک نظر آنے لگی ہے۔
عوامی سطح پر بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔ انگلستان کی روایتی گرمیوں کی یاد—باغات کی پارٹیاں، معتدل موسم اور پیش گوئی کے مطابق موسم—اب ایک بڑھتی ہوئی بے چینی میں بدل چکی ہے۔ اب ہر ہیٹ الرٹ خوشی کی بجائے ایک ان دیکھے خوف کا پیغام لاتا ہے۔
حکومتی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ محکمہ ماحولیات نے پانی بچانے کے نئے اصول تو متعارف کرائے ہیں، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ محض وقتی اقدامات ہیں۔ ان کے مطابق، حکومت کے پاس ایسی کوئی مربوط حکمت عملی نہیں ہے جو اس نئی حقیقت کا مقابلہ کر سکے، جہاں 30 ڈگری سے زیادہ درجہ حرارت اب موسم کا نیا معیار بن چکا ہے۔
یہ تبدیلی اب کوئی پیش گوئی یا دور کی دھمکی نہیں رہی، بلکہ لاکھوں لوگوں کا روزمرہ کا تجربہ ہے۔ جیسے جیسے سڑکیں پگھل رہی ہیں اور ان گھروں میں بھی ایئر کنڈیشنر لگ رہے ہیں جنہیں کبھی اس کی ضرورت نہیں تھی، پرانی انگلستانی گرمیاں محض تاریخ کی کتابوں اور کسی ٹھنڈے دور کے دھندلے پوسٹ کارڈز کا حصہ بن کر رہ گئی ہیں۔
