لندن — برطانیہ کے نئے وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے اقتدار سنبھالنے کے دوسرے ہی دن ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے یکم اکتوبر سے گھریلو بجلی کے بلوں پر عائد ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے سے برطانوی شہریوں کو اوسطاً 45 پاؤنڈ کا سالانہ ریلیف ملے گا، جبکہ اس وقت اوسطاً سالانہ بل 1,862 پاؤنڈز ہے۔ فنانشل مارکیٹ کے دباؤ اور حکومتی اخراجات کو توازن میں رکھنے کے لیے وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ اس ٹیکس کٹوتی کے لیے رقم اتوار کے روز منسوخ کیے گئے 1.8 ارب پاؤنڈز کے ڈیجیٹل آئی ڈی پروگرام کی بچت سے حاصل کی جائے گی۔ 56 سالہ سابق میئر گریٹر مانچسٹر اینڈی برنہم کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مہنگائی کے مارے عوام کو فوری ریلیف دینے اور ملک میں تبدیلی کی امید جگانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
تاہم، اس فیصلے پر حکمران لیبر پارٹی کے اندر سے ہی تنقید شروع ہو گئی ہے۔ سابق وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کے قریبی ساتھی ڈیرن جونز نے سوال اٹھایا ہے کہ ڈیجیٹل آئی ڈی اسکیم کے پاس پہلے ہی فنڈز نہیں تھے، اس لیے حکومت کو باقاعدہ بجٹ میں اس کا متبادل پیش کرنا ہوگا۔ دوسری طرف، توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے اکتوبر میں گیس کی قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جس سے یہ چھوٹ نا کافی ہو سکتی ہے۔ اپنے پہلے کابینہ اجلاس میں وزیرِ اعظم برنہم اور وزیرِ خزانہ جان ہیلی نے تمام وزراء کو سخت مالیاتی ڈسپلن برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ واضح رہے کہ برطانیہ میں حالیہ برسوں کے دوران وزرائے اعظم کی تیزی سے تبدیلی کے پیشِ نظر، برنہم جلد از جلد ایسے اقدامات کرنا چاہتے ہیں جن کا اثر غریب عوام تک فوری پہنچے، جس میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی اور بے گھر افراد کو چھت فراہم کرنا شامل ہے۔
