لاہور — لاہور ہائی کورٹ نے منگل کے روز موٹروے گینگ ریپ کیس کے مرکزی مجرمان عابد علی عرف ملہی اور شفقت علی عرف بگا کی سزائے موت برقرار رکھنے کا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ جسٹس سید شاہباز علی رضوی اور جسٹس طارق محمود باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 3 جون 2026 کو ایک مختصر حکم نامے کے ذریعے مجرمان کی اپیلیں مسترد کر دی تھیں، جس کا اب تفصیلی فیصلہ سامنے آیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ استغاثہ نے ٹھوس طبی، فرانزک، ڈی این اے اور عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں مجرمان کے خلاف جرم بلا شبہ ثابت کیا ہے۔
یہ ہائی پروفائل مقدمہ ستمبر 2020 میں گوجرپورہ پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا، جب ایک فرانسیسی شہریت رکھنے والی پاکستانی نژاد خاتون لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر گاڑی کا ایندھن ختم ہونے کی وجہ سے اپنے بچوں کے ساتھ پھنس گئی تھیں۔ مجرمان نے گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون کو بچوں سمیت قریبی جھاڑیوں میں گھسیٹا، انہیں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور نقدی و زیورات لوٹ کر فرار ہو گئے۔ مارچ 2021 میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے دونوں کو سزائے موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی تھیں، جس کے خلاف مجرمان نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں لکھا کہ متاثرہ خاتون کا بیان بالکل سچا اور سائنسی شواہد کے عین مطابق ہے، اور دفاعی وکلاء کی جانب سے اٹھائے گئے معمولی تضادات سے کیس پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بینچ نے ریمارکس دیے کہ ایسے بھیانک جرائم معاشرے میں خوف پھیلاتے ہیں اور عدالتی ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں، اس لیے مجرمان کسی بھی قسم کے رحم یا نرمی کے حقدار نہیں ہیں۔ عدالت نے سزائے موت کی توثیق کے ساتھ ہی پنجاب حکومت کی وہ اپیل بھی مسترد کر دی جس میں اغوا برائے تاوان کی سزا کو عمر قید سے بڑھا کر سزائے موت میں تبدیل کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
