الیس — فرانس میں منشیات کے بڑھتے ہوئے جرائم اور منظم مافیا کے خلاف جاری جنگ میں ایک نئی اور تشویشناک پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں جنوبی فرانس کے شہر ‘الیس’ (Alès) کے میئر کرسٹوف ریوینق کو ان کے گھر پر حملے کے مبینہ منصوبے کی اطلاع ملنے کے بعد راتوں رات وہاں سے نکال کر پولیس کی خصوصی حفاظتی تحویل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ فرانسیسی حکام کے مطابق، ملک کے سب سے خطرناک اور بڑے منشیات فروش گروہ ‘ڈی زیڈ مافیا’ (DZ Mafia) کی جانب سے میئر پر قاتلانہ حملے کا شدید اور فوری خطرہ تھا۔ فرانس میں گینگ وار اور آپسی قتل و غارت کے واقعات تو عام ہیں، لیکن کسی منتخب عوامی عہدیدار کو اس طرح نشانہ بنانے کی کوشش کو ایک غیر معمولی اور سنگین واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
فرانس کے وزیرِ داخلہ لارینٹ نونیز نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے معتبر انٹیلیجنس رپورٹس ملنے کے بعد میئر کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ‘ڈی زیڈ مافیا’ جس کا آغاز الیس سے 160 کلومیٹر دور ساحلی شہر مارسیلی سے ہوا تھا، اب تیزی سے اپنے نیٹ ورک کو پھیلا رہا ہے اور الیس شہر میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں میئر ریوینق کو اس وقت دھمکیاں دی گئی تھیں جب ان کے گھر کے لیٹر بکس سے 9 ایم ایم کی گولیاں اور دیواروں پر دھمکی آمیز تحریریں ملی تھیں۔ فرانس میں منشیات کی مارکیٹ پچھلے کچھ برسوں میں بے پناہ پھیل چکی ہے؛ دسمبر 2025 میں جاری ہونے والی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق، لاطینی امریکہ سے کوکین کی ریکارڈ اسمگلنگ کے باعث فرانس میں منشیات کے کاروبار کی مالیت 2010 میں 2.3 ارب یورو سے بڑھ کر 2023 تک 6.8 ارب یورو تک پہنچ چکی ہے۔ اس ہائی پروفائل کیس کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے، منظم جرائم کے خلاف حال ہی میں قائم کیے گئے فرانس کے خصوصی قومی پراسیکیوٹر آفس (PNACO) نے تحقیقات کا کنٹرول مارسیلی کی مقامی پولیس سے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔
