لاہور — وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت صوبائی ریونیو سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ٹیکس چوری کے خاتمے اور ٹیکس جمع کرنے کے نظام کو فعال بنانے کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے مالی سال 2026-27 کے لیے 528.5 ارب روپے کا ریونیو ہدف مقرر کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو انفورسمنٹ سخت کرنے اور معیشت کو نقد (کیش) سے ڈیجیٹل ادائیگیوں پر منتقل کرنے کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ نئے منصوبے کے تحت شادی ہالز، مارکیز، فارم ہاؤسز اور بڑی فوڈ چینز (ریسٹورنٹس) کی نگرانی جدید ڈیجیٹل اور سرولیڈنس سسٹمز کے ذریعے کی جائے گی تاکہ لین دین کی درست رپورٹنگ کو یقینی بنایا جا سکے۔ جعلی ٹیکس رسیدیں دینے یا سیلز چھپانے والے اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
حکومت بڑے ریسٹورنٹس پر نقد لین دین کے بجائے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو لازمی قرار دینے پر بھی غور کر رہی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے واضح کیا کہ ٹیکس چوری پر ‘زیرو ٹالرینس’ (قطعاً کوئی رعایت نہیں) ہوگی اور خلاف ورزیوں کو پکڑنے کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈیجیٹل سسٹمز کا استعمال کیا جائے گا۔ مریم نواز نے ٹیکس وصولی اور سیکٹرل میپنگ کے حوالے سے ہفتہ وار رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔
اس موقع پر پنجاب ریونیو اتھارٹی (PRA) کے حکام نے وزیرِ اعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں ٹیکس وصولی میں 38 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو 250 ارب روپے سے بڑھ کر 346 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے مزید بتایا کہ پی آر اے کا دائرہ کار پنجاب کے 10 اضلاع سے بڑھا کر 26 اضلاع تک پھیلا دیا گیا ہے، جبکہ ادارے میں انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن، ٹیکس دہندگان کا آڈٹ اور لیگل ونگز بھی قائم کر دیے گئے ہیں۔ مریم نواز نے پی آر اے کو اپنی افرادی قوت بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہونے کی ہدایت کی، اور تاکید کی کہ جب بھی کوئی انفورسمنٹ کارروائی کی جائے تو میڈیا کے ذریعے اس کی وجوہات عوام کے سامنے واضح کی جائیں۔
