اڈیالہ جیل میں قید بانی پاکستان تحریک انصاف کی صحت تیزی سے گر رہی ہے۔ یہ دعویٰ ان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم کو ان کے ذاتی معالج تک رسائی نہیں دی جا رہی، جس سے ان کی طبی حالت کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ خاندان کی بنیادی تشویش جیل انتظامیہ کی جانب سے صحت کے معاملات میں شفافیت کا فقدان ہے۔ علیمہ خان نے جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکام مسلسل آزادانہ طبی معائنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ڈاکٹروں کو بانی پی ٹی آئی تک رسائی نہیں دی جاتی، تو پارٹی قیادت اور عوام کو ان کی اصل طبی حالت کے بارے میں کبھی سچ معلوم نہیں ہو سکے گا۔ حکومتی حلقے ان دعووں کو سیاسی پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کرتے ہیں۔ حکام کا مؤقف ہے کہ جیل قوانین کے تحت قیدی کو تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کے نزدیک یہ خاموشی ایک حکمت عملی ہے۔ ان کے خیال میں طبی سہولیات پر قدغن محض سیکیورٹی پروٹوکول نہیں، بلکہ اپنے لیڈر کے حوصلے پست کرنے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سیاسی کشمکش کا مرکز بنی ہو۔ ان کی قید کے بعد سے قانونی ٹیم اسلام آباد ہائی کورٹ میں متعدد درخواستیں دائر کر چکی ہے، جن میں نجی ڈاکٹر تک رسائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عدالت نے ماضی میں جیل حکام کو معیاری طبی سہولیات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں، تاہم پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ ان احکامات پر عمل درآمد تاحال نہیں ہوا۔ ملکی سیاسی صورتحال اس وقت ایک نازک موڑ پر ہے۔ موجودہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری کھنچاؤ کے باعث بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق ہر خبر اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ حامی اسے عدالتی آزادی کا امتحان سمجھتے ہیں، جبکہ حکومتی حلقے ان کرپشن کیسز پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ علیمہ خان کا حالیہ بیان حکام کے لیے ایک واضح انتباہ ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر ان کے بھائی کی صحت مزید بگڑی تو اس کی تمام تر ذمہ داری ریاست پر عائد ہوگی۔ اڈیالہ جیل کی دیواروں کے پیچھے بانی پی ٹی آئی کی طبی حقیقت کیا ہے، اس کا جواب فی الحال پردہ غیب میں ہے، اور حکومتی اور خاندانی بیانیے کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔
