کراچی: محمد رضوان کی ذمہ دارانہ بیٹنگ اور بولرز کی تباہ کن کارکردگی کی بدولت راولپنڈیز نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا فائنل 24 رنز سے جیت کر پہلی بار ٹرافی اپنے نام کر لی۔ نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میں راولپنڈیز نے دباؤ کے باوجود حریف ٹیم کو بے بس کر دیا۔
راولپنڈیز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 6 وکٹوں پر 158 رنز بنائے۔ پچ پر موجود نمی اور ابتدائی سوئنگ نے بلے بازوں کو مشکلات میں ڈالا، تاہم رضوان نے 48 گیندوں پر 62 رنز کی اننگز کھیل کر ٹیم کو سہارا دیا۔ ایک مرحلے پر راولپنڈیز کی اننگز لڑکھڑاتی دکھائی دی، لیکن رضوان نے وکٹ پر جم کر اسکور کو لڑنے کے قابل ہدف تک پہنچایا۔
ہدف کے تعاقب میں حریف ٹیم کا آغاز ہی مایوس کن رہا۔ راولپنڈیز کے بولرز نے لائن اور لینتھ پر سمجھوتہ کیے بغیر ایسی گرفت مضبوط کی کہ مخالف بلے باز کھل کر شاٹس نہ کھیل سکے۔ مڈل اوورز میں رنز کی رفتار کم ہوتی گئی، جس سے دباؤ بڑھتا چلا گیا۔ فیلڈنگ میں مستعدی اور درست حکمت عملی نے حریف ٹیم کی رہی سہی امیدیں بھی ختم کر دیں۔
میچ کے بعد تقریبِ تقسیمِ انعامات میں گفتگو کرتے ہوئے محمد رضوان نے کہا، "ہمیں معلوم تھا کہ 160 رنز کا ہدف دفاع کے لیے کافی ہے، بس ڈسپلن کی ضرورت تھی۔ کھلاڑیوں نے ڈریسنگ روم میں بننے والے منصوبے پر من و عن عمل کیا۔ یہ جیت راولپنڈی کے عوام کے نام ہے۔”
یہ فتح راولپنڈیز فرنچائز کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ برسوں کی جدوجہد اور ٹیم میں تبدیلیوں کے بعد، یہ ٹرافی ان کی بولنگ پر مبنی حکمت عملی کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ دوسری جانب، پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی دکھانے والی حریف ٹیم فائنل کے دباؤ میں بکھر گئی۔ مڈل اوورز میں اسٹرائیک روٹیٹ نہ کر پانا ان کی شکست کا بنیادی سبب بنا۔
جب کراچی کے آسمان پر فاتح ٹیم کے لیے آتش بازی شروع ہوئی، تو راولپنڈیز کے کھلاڑیوں کے چہروں پر پہلی ٹرافی جیتنے کی خوشی دیدنی تھی۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں صرف پاور ہٹنگ ہی نہیں، بلکہ اعصاب پر قابو پانا بھی جیت کی ضمانت ہے۔
