سائنسدانوں نے مرتے ہوئے ستاروں کے بارے میں اہم نئی معلومات حاصل کی ہیں، جن سے ستاروں کی زندگی کے آخری مراحل اور کائنات میں ہونے والے عظیم فلکیاتی عمل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل رہی ہے۔ تازہ تحقیق یہ واضح کر رہی ہے کہ ستارے اپنا ایندھن ختم ہونے کے بعد کس طرح تبدیل ہوتے ہیں اور وہ ایسے عناصر خلا میں پھیلاتے ہیں جو بعد میں نئے ستاروں، سیاروں اور زندگی کی بنیاد بنتے ہیں۔
ماہرینِ فلکیات نے طاقتور خلائی دوربینوں، جدید کمپیوٹر ماڈلز اور زمینی رصدگاہوں کی مدد سے بوڑھے ہوتے ستاروں کی روشنی، درجۂ حرارت اور کیمیائی ساخت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ ستارے لاکھوں اور اربوں برسوں میں مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اپنی زندگی کے اختتام تک پہنچتے ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق کسی بھی ستارے کا انجام اس کے کمیت پر منحصر ہوتا ہے۔ ہمارے سورج جیسے نسبتاً چھوٹے ستارے اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں سرخ دیو بن جاتے ہیں، پھر اپنی بیرونی تہیں خلا میں بکھیر دیتے ہیں اور آخرکار ایک انتہائی گھنے سفید بونے ستارے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
اس کے برعکس، بہت زیادہ کمیت رکھنے والے ستارے انتہائی طاقتور سپرنووا دھماکے سے پھٹ جاتے ہیں۔ بعض صورتوں میں ان کے باقی ماندہ حصے نیوٹران ستارے یا بلیک ہولز میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان عظیم دھماکوں کے دوران کاربن، آکسیجن، آئرن اور کیلشیم جیسے اہم عناصر خلا میں پھیل جاتے ہیں، جو بعد میں نئے ستاروں، سیاروں اور جانداروں کی تشکیل میں استعمال ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے مرتے ہوئے ستارے کائنات میں نئی تخلیق کے عمل کا ایک بنیادی حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
تازہ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مرتے ہوئے ستارے طاقتور ستاروی ہواؤں کے ذریعے بڑی مقدار میں مادہ خارج کرتے ہیں، جبکہ ان کے گرد موجود گیس اور گرد و غبار بعد میں نہایت خوبصورت پلینیٹری نیبیولا کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ روشن بادل سائنسدانوں کو ستاروں کی آخری زندگی میں ہونے والے طبعی اور کیمیائی عمل کو سمجھنے میں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مرتے ہوئے ستاروں کا مطالعہ کہکشاؤں کے ارتقا، کیمیائی عناصر کی ابتدا اور ہمارے اپنے سورج کے مستقبل کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ مستقبل میں مزید جدید خلائی دوربینیں اور تحقیقی مشنز ان فلکیاتی مظاہر کے بارے میں مزید اہم راز آشکار کریں گے۔
ماہرین کے مطابق ہر نئی دریافت انسان کو ستاروں کی زندگی کے مکمل سفر اور اربوں سال سے جاری کائناتی ارتقا کو سمجھنے کے مزید قریب لے جا رہی ہے۔
