مریخ (مارس) پر ہونے والی نئی سائنسی دریافتوں نے ماہرین کو اس سرخ سیارے کے قدیم ماضی، اس کی آب و ہوا، ارضیاتی تاریخ اور اس امکان کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دی ہے کہ شاید اربوں سال پہلے وہاں زندگی کے لیے موزوں حالات موجود تھے۔
حالیہ تحقیقات میں مریخ پر موجود روورز، مدار میں گردش کرنے والے خلائی مشنز اور جدید سائنسی آلات نے قدیم دریائی راستوں، تلچھٹی چٹانوں اور معدنی ذخائر کے بارے میں نئی معلومات فراہم کی ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ ماضی میں مریخ پر مائع پانی بہتا تھا، جس سے دریا، جھیلیں اور ممکنہ طور پر کم گہرائی والے سمندر بھی وجود میں آئے تھے۔
سائنسدانوں نے مریخ کے مختلف علاقوں میں نامیاتی مالیکیولز اور مٹی سے بھرپور چٹانیں بھی دریافت کی ہیں۔ اگرچہ یہ دریافتیں ماضی میں زندگی کے وجود کا حتمی ثبوت نہیں ہیں، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتی ہیں کہ کسی زمانے میں مریخ پر خردبینی زندگی کے لیے سازگار ماحول موجود ہو سکتا تھا۔
ماہرینِ ارضیات کے مطابق مریخی چٹانوں میں محفوظ معدنیات اس سیارے کی بدلتی ہوئی آب و ہوا کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتی ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ مریخ کبھی نسبتاً گرم اور مرطوب تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس نے اپنی فضا کا بڑا حصہ کھو دیا اور آہستہ آہستہ آج کے سرد، خشک اور بنجر سیارے میں تبدیل ہو گیا۔
محققین روبوٹک مشنز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے مریخ کی ارضیاتی تاریخ کو دوبارہ ترتیب دے رہے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ وہاں بڑے ماحولیاتی تغیرات کب اور کیسے رونما ہوئے۔ مستقبل میں منصوبہ بند مارس سیمپل ریٹرن مشنز سے امید ہے کہ مریخ کی چٹانوں کے نمونے زمین پر لا کر جدید تجربہ گاہوں میں ان کا مزید تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مریخ کا مطالعہ صرف ایک ہمسایہ سیارے کو سمجھنے کے لیے نہیں بلکہ پورے شمسی نظام، خصوصاً زمین جیسے چٹانی سیاروں کی تشکیل اور ارتقا کو جاننے کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ دریافتیں مستقبل میں مریخ پر انسانی مشنز کی منصوبہ بندی میں مددگار ثابت ہوں گی اور انسان کو سائنس کے ایک اہم سوال کا جواب تلاش کرنے کے مزید قریب لے جائیں گی: کیا مریخ پر کبھی زندگی موجود تھی؟
