MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
سیاست

ایران نے ایک طاقتور حملہ آور کا مقابلہ کیا۔ تائیوان بھی کر سکتا ہے — مگر ایک حد تک

Last updated: اپریل 17, 2026 9:49 شام
Amna Iqbal
Share
SHARE

تائیوان میں سلامتی سے متعلق بحث نے حالیہ ہفتوں میں ایک نئی شدت اختیار کر لی ہے۔ حکام، عسکری ماہرین اور سیاست دان ایران کی اس صلاحیت کا جائزہ لے رہے ہیں کہ شدید حملوں کے باوجود وہ ریاستی اور عسکری سطح پر فعال رہا، اور اسی پس منظر میں ایک سیدھا سا سوال اٹھ رہا ہے: اگر چین نے تائیوان پر ابتدائی مرحلے میں بھرپور اور منظم حملہ کیا تو کیا تائیوان لڑائی جاری رکھ سکے گا؟ تائی پے سے ابھرنے والا جواب سادہ نہیں۔ بات کچھ یوں ہے: تائیوان مزاحمت کر سکتا ہے، لیکن صرف اسی صورت میں جب “مزاحمت” کا مطلب صرف میزائل اور لڑاکا طیارے نہ ہوں، بلکہ پورا معاشرہ اور ریاستی ڈھانچا دباؤ میں بھی چلتا رہے۔

ایران کی مثال اس لیے زیر بحث آئی ہے کہ ایشیا میں شائع ہونے والی تازہ تجزیاتی رپورٹوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ جدید جنگ میں اصل امتحان کیا ہوتا ہے۔ تائیوان میں یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ کسی بڑے تصادم کے پہلے ہی گھنٹوں میں فضائی دفاعی نظام، کمانڈ نیٹ ورک اور اعلیٰ قیادت سے جڑی تنصیبات نشانے پر آ سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں اب یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ اصل بقا شاید ہر حملہ روکنے میں نہیں، بلکہ پہلے شدید جھٹکے کے بعد بھی حکومت، رسد، رابطہ نظام، مقامی انتظامیہ اور روزمرہ زندگی کو قائم رکھنے میں ہے۔

یہی وہ نکتہ ہے جو تائیوان کے حق میں جاتا ہے۔ کسی معاشرے کو جنگ میں قائم رہنے کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہونا ضروری نہیں ہوتا؛ ضروری یہ ہے کہ وہ بکھرے نہیں۔ بجلی، ٹرانسپورٹ، مواصلات، اسپتال، خوراک کی ترسیل اور سیاسی فیصلہ سازی اگر ایک ساتھ مفلوج نہ ہوں تو مزاحمت جاری رہ سکتی ہے۔ تائیوان کی حکومت نے حالیہ عرصے میں اسی سوچ کو پالیسی کی سطح پر اپنایا ہے۔ صدر لائی چنگ دے کی انتظامیہ نے “پورے معاشرے کی مزاحمت” کو ترجیحی پالیسی بنایا ہے، اور صدارتی سطح پر ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کسی قومی ہنگامی صورتحال یا بڑے بحران میں حکومت اور معاشرہ معمول کی بنیادی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔

یہ سوچ اب محض تقریروں تک محدود نہیں رہی۔ تائیوان نے 2026 کی شہری مزاحمتی مشقوں کا اعلان کیا ہے، جن کے تحت تمام 22 شہری و ضلعی انتظامی یونٹوں میں ہنگامی اور جنگی ردعمل کا امتحان لیا جانا ہے۔ ان مشقوں میں صرف کاغذی منصوبہ بندی نہیں، بلکہ عملی نفاذ، مقامی حکومتوں، مرکزی اداروں اور شہری ڈھانچوں کے درمیان رابطے کی جانچ بھی شامل ہے۔ سرکاری تفصیل سے واضح ہے کہ مقصد صرف جنگی مقابلہ نہیں بلکہ بحران کے دوران ضروری عوامی خدمات اور سماجی نظام کو چلتے رکھنا بھی ہے۔ بظاہر یہ ایک انتظامی بات لگتی ہے، مگر جنگ میں اکثر یہی فرق طے کرتا ہے کہ ریاست قائم رہتی ہے یا بکھر جاتی ہے۔

لیکن یہاں خوش فہمی کی گنجائش کم ہے۔ ایران، تائیوان نہیں ہے۔ ایران کے پاس جغرافیائی گہرائی ہے، اس کی زمینی وسعت الگ ہے، اور اس کی رسدی حقیقت بھی مختلف ہے۔ تائیوان ایک جزیرہ ہے، جو چین کے ساحل کے بہت قریب واقع ہے۔ اس لیے بیجنگ کو مشرقِ وسطیٰ کی کسی جنگی مثال کو من و عن دہرانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ چین کے پاس کئی اور راستے ہیں: میزائل حملے، بحری ناکہ بندی یا “کوارنٹین” جیسی حکمتِ عملی، سائبر حملے، مسلسل دباؤ کی کارروائیاں، اور ایک ایسا معاشی و عسکری شکنجہ جو تائیوان کی سکت کو آہستہ آہستہ کمزور کرے۔ سی ایس آئی ایس کے تجزیوں میں بھی یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ ناکہ بندی چین کے لیے ایک مرکزی دباؤ کے آلے کی شکل اختیار کر سکتی ہے، خاص طور پر اگر وہ مکمل آبی حملے سے پہلے تائیوان کی قوتِ ارادی اور رسد کو کمزور کرنا چاہے۔

یہیں آ کر ایران اور تائیوان کا تقابل کمزور پڑنے لگتا ہے۔ ایران کی مزاحمت اس بات کا خودکار ثبوت نہیں کہ تائیوان بھی اسی طرح یا اس سے بڑے حملے کو برداشت کر لے گا۔ تائیوان کی کمزوریاں نہایت مخصوص ہیں: توانائی کے لیے بیرونی انحصار، سمندری راستوں پر انحصار، اور یہ خطرہ کہ بندرگاہیں، رن ویز، مواصلاتی مراکز اور کمانڈ سسٹمز ایک ہی وقت میں نشانے پر آ سکتے ہیں۔ خطے میں شائع ہونے والی حالیہ رپورٹوں کے مطابق تائیوانی حکام ایران اور یوکرین دونوں کے فضائی دفاعی تجربات کا مطالعہ کر رہے ہیں، خاص طور پر یہ کہ نسبتاً سستے ڈرونز اور راکٹوں کے خلاف مہنگے انٹرسیپٹرز کب تک استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، تائیوان شاید ہر چیز گرانے کی پوزیشن میں نہ ہو؛ اسے یہ بھی سوچنا ہوگا کہ جو کچھ دفاعی حصار سے گزر جائے، اس کے بعد بقا کیسے ممکن بنائی جائے۔

اس ساری بحث کا شاید سب سے اہم پہلو نفسیاتی ہے۔ ایران کے تجربے نے ایک بار پھر یاد دلایا ہے کہ جدید جنگیں صرف ابتدائی حملے کی شدت سے نہیں جیتی جاتیں۔ یہ مقابلہ اکثر اس بات کا بھی ہوتا ہے کہ کون جلدی خود کو ڈھالتا ہے، کون اپنے نظام کو مرمت کرتا ہے، کس کے پاس متبادل ڈھانچے موجود ہیں، اور کس کی سیاسی قیادت دباؤ میں بھی فیصلے کرتی رہتی ہے۔ رَینڈ کے محققین نے بھی تائیوان سے متعلق اپنی تحقیق میں اسی نکتے پر زور دیا ہے کہ جزیرے کی تیاری کا انحصار صرف مسلح افواج پر نہیں، بلکہ اس پر بھی ہے کہ شہری، ادارے اور بنیادی ڈھانچے شدید دباؤ میں کتنی دیر تک فعال رہ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق پیش رفت ضرور ہوئی ہے، مگر خلا اب بھی باقی ہیں۔

ایک اور سوال بھی ہے، اور شاید یہی سب سے بھاری سوال ہے: بیرونی مدد۔ تائیوان کی مزاحمت صرف اس کی اپنی تیاری سے طے نہیں ہوگی، بلکہ اس سے بھی کہ اس کے شراکت دار کتنی جلد مدد کرتے ہیں، سمندری راستے کھلے رہتے ہیں یا نہیں، اور آیا چین امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مصروف، محتاط یا پیچھے ہٹنے پر مجبور کر سکتا ہے یا نہیں۔ اسی پس منظر میں اپریل 2026 میں فلپائن میں ہونے والی بڑی Balikatan فوجی مشقیں اہم سمجھی جا رہی ہیں، جن میں امریکہ اور فلپائن کے 17 ہزار سے زائد اہلکاروں کے ساتھ جاپان، فرانس اور کینیڈا کی شمولیت بھی رپورٹ ہوئی۔ یہ مشقیں ایک پیغام ضرور دیتی ہیں کہ واشنگٹن خطے میں موجود ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کسی حقیقی بحران میں یہی عزم کس حد تک برقرار رہتا ہے۔

چنانچہ تائیوان ایران کے تجربے سے کچھ ضرور سیکھ سکتا ہے۔ ایک نسبتاً کمزور فریق شدید حملوں کے بعد بھی فعال، خطرناک اور سیاسی طور پر زندہ رہ سکتا ہے۔ مگر اس سبق کے ساتھ ایک تنبیہ بھی جڑی ہے۔ تائیوان کو صرف ایک حملہ آور کا مقابلہ نہیں کرنا؛ اسے ایک ایسے ہمسائے کا سامنا ہے جو اس سے بڑا ہے، قریب ہے، معاشی طور پر جڑا ہوا بھی ہے، اور جو براہِ راست جنگ کے ساتھ ناکہ بندی، دباؤ اور تدریجی گھٹن کی حکمتِ عملی بھی اختیار کر سکتا ہے۔ اس لیے مزاحمت ممکن تو ہے، مگر خوداعتمادی خودکار نہیں۔

اسی وجہ سے تائیوان میں سنجیدہ حلقے اب صرف ہتھیاروں کی خریداری یا جنگی بہادری کی بات نہیں کر رہے۔ بحث اب بیک اپ نظاموں، مقامی حکومتوں، ہنگامی طب، امن و امان، ذخائر، مواصلاتی تسلسل اور شہری دفاع پر جا پہنچی ہے۔ وجہ سادہ ہے: جس جنگ سے تائیوان خائف ہے، اس میں پہلے ہفتے کی بقا شاید اس بات پر منحصر ہو کہ روزمرہ زندگی کتنی دیر تک، کسی نہ کسی شکل میں، چلتی رہتی ہے۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article ایران کے وزیرِ خارجہ کا دعویٰ: آبنائے ہرمز “مکمل طور پر کھلی” ہے
Next Article نئے ٹرانسپلانٹ علاج اگر کامیاب دکھائی دیں کیا نئے ٹرانسپلانٹ علاج اگر کامیاب دکھائی دیں تو ان کی جانچ زیادہ تیزی سے کی جانی چاہیے
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
صومالیہ میں قزاقوں کی فائرنگ سے جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن لانے میں مشکلات
صومالیہ میں قزاقوں کی فائرنگ سے جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن لانے میں مشکلات
Maritime تازہ ترین
اکتوبر 1, 2026
امریکی قونصل جنرل کا کراچی پورٹ کا دورہ، جدیدکاری اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو
امریکی قونصل جنرل کا کراچی پورٹ کا دورہ، جدیدکاری اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اکتوبر 1, 2026
پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کامیاب، 15 اکتوبر تک مہلت
پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کامیاب، 15 اکتوبر تک مہلت
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اکتوبر 1, 2026
پی ایم اے کا ملک بھر کے نجی میڈیکل سینٹرز میں ہڑتال کا اعلان، حکومت کو 11 اکتوبر کی ڈیڈ لائن
پی ایم اے کا ملک بھر کے نجی میڈیکل سینٹرز میں ہڑتال کا اعلان، حکومت کو 11 اکتوبر کی ڈیڈ لائن
Health تازہ ترین
اکتوبر 1, 2026
کراچی اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس 368 پوائنٹس اضافے سے بند
کراچی اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس 368 پوائنٹس اضافے سے بند
Economy تازہ ترین
ستمبر 30, 2026
کراچی میں ورلڈ میری ٹائم ڈے منایا گیا، سمندری شعبے کی اہمیت اجاگر
کراچی میں ورلڈ میری ٹائم ڈے منایا گیا، سمندری شعبے کی اہمیت اجاگر
بریکنگ نیوز
ستمبر 30, 2026

You Might Also Like

میلونی کا ٹرمپ کو دوٹوک جواب، ذاتی نوعیت کا سفارتی تنازع شدت اختیار کر گیا
سیاست

میلونی کا ٹرمپ کو دوٹوک جواب، ذاتی نوعیت کا سفارتی تنازع شدت اختیار کر گیا

By Yamna Shahid
سیاست

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کا دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ

By Hannan Khani
کے پی کے وزیرِ اعلیٰ کا لانگ مارچ 27 ستمبر کو ہی کرنے کا اعلان، تاریخ میں تبدیلی سے انکار
تازہ ترینسیاست

کے پی کے وزیرِ اعلیٰ کا لانگ مارچ 27 ستمبر کو ہی کرنے کا اعلان، تاریخ میں تبدیلی سے انکار

By Haris Ali
سیاست

ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں، مگر ہمارے لیڈر سے ملاقات تو کروائیں، شہرام تراکئی

By Hafeez Alam Ghazi
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?