تائیوان میں سلامتی سے متعلق بحث نے حالیہ ہفتوں میں ایک نئی شدت اختیار کر لی ہے۔ حکام، عسکری ماہرین اور سیاست دان ایران کی اس صلاحیت کا جائزہ لے رہے ہیں کہ شدید حملوں کے باوجود وہ ریاستی اور عسکری سطح پر فعال رہا، اور اسی پس منظر میں ایک سیدھا سا سوال اٹھ رہا ہے: اگر چین نے تائیوان پر ابتدائی مرحلے میں بھرپور اور منظم حملہ کیا تو کیا تائیوان لڑائی جاری رکھ سکے گا؟ تائی پے سے ابھرنے والا جواب سادہ نہیں۔ بات کچھ یوں ہے: تائیوان مزاحمت کر سکتا ہے، لیکن صرف اسی صورت میں جب “مزاحمت” کا مطلب صرف میزائل اور لڑاکا طیارے نہ ہوں، بلکہ پورا معاشرہ اور ریاستی ڈھانچا دباؤ میں بھی چلتا رہے۔
ایران کی مثال اس لیے زیر بحث آئی ہے کہ ایشیا میں شائع ہونے والی تازہ تجزیاتی رپورٹوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ جدید جنگ میں اصل امتحان کیا ہوتا ہے۔ تائیوان میں یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ کسی بڑے تصادم کے پہلے ہی گھنٹوں میں فضائی دفاعی نظام، کمانڈ نیٹ ورک اور اعلیٰ قیادت سے جڑی تنصیبات نشانے پر آ سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں اب یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ اصل بقا شاید ہر حملہ روکنے میں نہیں، بلکہ پہلے شدید جھٹکے کے بعد بھی حکومت، رسد، رابطہ نظام، مقامی انتظامیہ اور روزمرہ زندگی کو قائم رکھنے میں ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جو تائیوان کے حق میں جاتا ہے۔ کسی معاشرے کو جنگ میں قائم رہنے کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہونا ضروری نہیں ہوتا؛ ضروری یہ ہے کہ وہ بکھرے نہیں۔ بجلی، ٹرانسپورٹ، مواصلات، اسپتال، خوراک کی ترسیل اور سیاسی فیصلہ سازی اگر ایک ساتھ مفلوج نہ ہوں تو مزاحمت جاری رہ سکتی ہے۔ تائیوان کی حکومت نے حالیہ عرصے میں اسی سوچ کو پالیسی کی سطح پر اپنایا ہے۔ صدر لائی چنگ دے کی انتظامیہ نے “پورے معاشرے کی مزاحمت” کو ترجیحی پالیسی بنایا ہے، اور صدارتی سطح پر ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کسی قومی ہنگامی صورتحال یا بڑے بحران میں حکومت اور معاشرہ معمول کی بنیادی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
یہ سوچ اب محض تقریروں تک محدود نہیں رہی۔ تائیوان نے 2026 کی شہری مزاحمتی مشقوں کا اعلان کیا ہے، جن کے تحت تمام 22 شہری و ضلعی انتظامی یونٹوں میں ہنگامی اور جنگی ردعمل کا امتحان لیا جانا ہے۔ ان مشقوں میں صرف کاغذی منصوبہ بندی نہیں، بلکہ عملی نفاذ، مقامی حکومتوں، مرکزی اداروں اور شہری ڈھانچوں کے درمیان رابطے کی جانچ بھی شامل ہے۔ سرکاری تفصیل سے واضح ہے کہ مقصد صرف جنگی مقابلہ نہیں بلکہ بحران کے دوران ضروری عوامی خدمات اور سماجی نظام کو چلتے رکھنا بھی ہے۔ بظاہر یہ ایک انتظامی بات لگتی ہے، مگر جنگ میں اکثر یہی فرق طے کرتا ہے کہ ریاست قائم رہتی ہے یا بکھر جاتی ہے۔
لیکن یہاں خوش فہمی کی گنجائش کم ہے۔ ایران، تائیوان نہیں ہے۔ ایران کے پاس جغرافیائی گہرائی ہے، اس کی زمینی وسعت الگ ہے، اور اس کی رسدی حقیقت بھی مختلف ہے۔ تائیوان ایک جزیرہ ہے، جو چین کے ساحل کے بہت قریب واقع ہے۔ اس لیے بیجنگ کو مشرقِ وسطیٰ کی کسی جنگی مثال کو من و عن دہرانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ چین کے پاس کئی اور راستے ہیں: میزائل حملے، بحری ناکہ بندی یا “کوارنٹین” جیسی حکمتِ عملی، سائبر حملے، مسلسل دباؤ کی کارروائیاں، اور ایک ایسا معاشی و عسکری شکنجہ جو تائیوان کی سکت کو آہستہ آہستہ کمزور کرے۔ سی ایس آئی ایس کے تجزیوں میں بھی یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ ناکہ بندی چین کے لیے ایک مرکزی دباؤ کے آلے کی شکل اختیار کر سکتی ہے، خاص طور پر اگر وہ مکمل آبی حملے سے پہلے تائیوان کی قوتِ ارادی اور رسد کو کمزور کرنا چاہے۔
یہیں آ کر ایران اور تائیوان کا تقابل کمزور پڑنے لگتا ہے۔ ایران کی مزاحمت اس بات کا خودکار ثبوت نہیں کہ تائیوان بھی اسی طرح یا اس سے بڑے حملے کو برداشت کر لے گا۔ تائیوان کی کمزوریاں نہایت مخصوص ہیں: توانائی کے لیے بیرونی انحصار، سمندری راستوں پر انحصار، اور یہ خطرہ کہ بندرگاہیں، رن ویز، مواصلاتی مراکز اور کمانڈ سسٹمز ایک ہی وقت میں نشانے پر آ سکتے ہیں۔ خطے میں شائع ہونے والی حالیہ رپورٹوں کے مطابق تائیوانی حکام ایران اور یوکرین دونوں کے فضائی دفاعی تجربات کا مطالعہ کر رہے ہیں، خاص طور پر یہ کہ نسبتاً سستے ڈرونز اور راکٹوں کے خلاف مہنگے انٹرسیپٹرز کب تک استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، تائیوان شاید ہر چیز گرانے کی پوزیشن میں نہ ہو؛ اسے یہ بھی سوچنا ہوگا کہ جو کچھ دفاعی حصار سے گزر جائے، اس کے بعد بقا کیسے ممکن بنائی جائے۔
اس ساری بحث کا شاید سب سے اہم پہلو نفسیاتی ہے۔ ایران کے تجربے نے ایک بار پھر یاد دلایا ہے کہ جدید جنگیں صرف ابتدائی حملے کی شدت سے نہیں جیتی جاتیں۔ یہ مقابلہ اکثر اس بات کا بھی ہوتا ہے کہ کون جلدی خود کو ڈھالتا ہے، کون اپنے نظام کو مرمت کرتا ہے، کس کے پاس متبادل ڈھانچے موجود ہیں، اور کس کی سیاسی قیادت دباؤ میں بھی فیصلے کرتی رہتی ہے۔ رَینڈ کے محققین نے بھی تائیوان سے متعلق اپنی تحقیق میں اسی نکتے پر زور دیا ہے کہ جزیرے کی تیاری کا انحصار صرف مسلح افواج پر نہیں، بلکہ اس پر بھی ہے کہ شہری، ادارے اور بنیادی ڈھانچے شدید دباؤ میں کتنی دیر تک فعال رہ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق پیش رفت ضرور ہوئی ہے، مگر خلا اب بھی باقی ہیں۔
ایک اور سوال بھی ہے، اور شاید یہی سب سے بھاری سوال ہے: بیرونی مدد۔ تائیوان کی مزاحمت صرف اس کی اپنی تیاری سے طے نہیں ہوگی، بلکہ اس سے بھی کہ اس کے شراکت دار کتنی جلد مدد کرتے ہیں، سمندری راستے کھلے رہتے ہیں یا نہیں، اور آیا چین امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مصروف، محتاط یا پیچھے ہٹنے پر مجبور کر سکتا ہے یا نہیں۔ اسی پس منظر میں اپریل 2026 میں فلپائن میں ہونے والی بڑی Balikatan فوجی مشقیں اہم سمجھی جا رہی ہیں، جن میں امریکہ اور فلپائن کے 17 ہزار سے زائد اہلکاروں کے ساتھ جاپان، فرانس اور کینیڈا کی شمولیت بھی رپورٹ ہوئی۔ یہ مشقیں ایک پیغام ضرور دیتی ہیں کہ واشنگٹن خطے میں موجود ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کسی حقیقی بحران میں یہی عزم کس حد تک برقرار رہتا ہے۔
چنانچہ تائیوان ایران کے تجربے سے کچھ ضرور سیکھ سکتا ہے۔ ایک نسبتاً کمزور فریق شدید حملوں کے بعد بھی فعال، خطرناک اور سیاسی طور پر زندہ رہ سکتا ہے۔ مگر اس سبق کے ساتھ ایک تنبیہ بھی جڑی ہے۔ تائیوان کو صرف ایک حملہ آور کا مقابلہ نہیں کرنا؛ اسے ایک ایسے ہمسائے کا سامنا ہے جو اس سے بڑا ہے، قریب ہے، معاشی طور پر جڑا ہوا بھی ہے، اور جو براہِ راست جنگ کے ساتھ ناکہ بندی، دباؤ اور تدریجی گھٹن کی حکمتِ عملی بھی اختیار کر سکتا ہے۔ اس لیے مزاحمت ممکن تو ہے، مگر خوداعتمادی خودکار نہیں۔
اسی وجہ سے تائیوان میں سنجیدہ حلقے اب صرف ہتھیاروں کی خریداری یا جنگی بہادری کی بات نہیں کر رہے۔ بحث اب بیک اپ نظاموں، مقامی حکومتوں، ہنگامی طب، امن و امان، ذخائر، مواصلاتی تسلسل اور شہری دفاع پر جا پہنچی ہے۔ وجہ سادہ ہے: جس جنگ سے تائیوان خائف ہے، اس میں پہلے ہفتے کی بقا شاید اس بات پر منحصر ہو کہ روزمرہ زندگی کتنی دیر تک، کسی نہ کسی شکل میں، چلتی رہتی ہے۔
