پاکستان تحریک انصاف کی اندرونی صفوں میں کشیدگی اس وقت کھل کر سامنے آئی جب پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کے درمیان نجی واٹس ایپ گروپس میں ہونے والی تلخ بحث کے اسکرین شاٹس منظر عام پر آ گئے۔ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ہونے والی یہ بحث پارٹی کی موجودہ حکمت عملی اور فیصلوں کے اختیار پر گہرے سوالات اٹھا رہی ہے۔
اختلافات کا مرکز پارٹی کی احتجاجی پالیسی اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطوں کا معاملہ رہا۔ بحث کے دوران سینئر رہنماؤں نے ایک دوسرے پر کڑی تنقید کی، جبکہ کچھ اراکین نے موجودہ قیادت کے فیصلوں اور ان کے اثر و رسوخ کو براہ راست چیلنج کیا۔
ایک سینئر رہنما نے گروپ میں لکھا کہ "ہم دو محاذوں پر جنگ لڑ رہے ہیں، لیکن اپنی ہی صفوں میں الجھے ہوئے ہیں۔” اس پر ایک صوبائی عہدیدار کا جواب انتہائی تند و تیز تھا، جس نے سینئر رہنما کی رائے کو "زمینی حقائق سے لاتعلقی” قرار دے کر مسترد کر دیا۔
یہ ڈیجیٹل جھگڑے محض غصے کا اظہار نہیں، بلکہ ان مہینوں کی تھکاوٹ کا نتیجہ ہیں جو پارٹی قیادت نے قانونی لڑائیوں اور غیر یقینی صورتحال میں گزارے ہیں۔ اہم رہنماؤں کی گرفتاریوں یا روپوش ہونے کے بعد، پارٹی کے اندر کمان کا خلا پیدا ہوا ہے جس نے ذاتی رنجشوں کو ابھرنے کا موقع دیا ہے۔ واٹس ایپ گروپ، جو دراصل آپریشنل پلاننگ کے لیے بنایا گیا تھا، اب باہمی شکایات کا مرکز بن چکا ہے۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع کا ماننا ہے کہ یہ کشیدگی عمران خان کی براہ راست نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے بڑھ رہی ہے۔ ماضی میں، سابق وزیر اعظم ایسے تنازعات میں حتمی ثالث کا کردار ادا کرتے تھے، لیکن اب ان کی غیر موجودگی میں مختلف دھڑے اپنے موقف پر سختی سے ڈٹے ہوئے ہیں، جس سے نچلی سطح کے کارکنان یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اصل احکامات کون جاری کر رہا ہے۔
سرکاری طور پر پارٹی اب بھی اتحاد کا دعویٰ کر رہی ہے، مگر لیک ہونے والے پیغامات اس کمانڈ اسٹرکچر کے ٹوٹنے کی تصدیق کر رہے ہیں جس نے طویل عرصے تک پارٹی کو متحد رکھا تھا۔
آئندہ سیاسی لائحہ عمل کے لیے تیاریوں کے بیچ، یہ اندرونی دراڑیں تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک کو کمزور کر سکتی ہیں۔ کارکنان کے لیے اصل مسئلہ اب صرف احتجاج کی تاریخ نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا قیادت اپنی داخلی لڑائیوں کو ختم کر کے ایک سیاسی قوت کے طور پر برقرار رہ سکے گی یا نہیں۔
