وکلاء ایکشن کمیٹی نے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کے ججوں کی تقرری کے عمل کو ‘ہارس ٹریڈنگ’ قرار دیتے ہوئے ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ عدالتی تقرریوں کے معیار اور شفافیت پر قانونی حلقوں میں جاری شدید تحفظات کے بعد سامنے آیا ہے۔
کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ موجودہ تقرریوں کا طریقہ کار ادارہ جاتی ساکھ کو داؤ پر لگا رہا ہے۔ وکلاء تنظیموں کے مطابق، اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی میرٹ کے بجائے پسند اور ناپسند کی بنیاد پر کی جا رہی ہے، جس نے آئینی تقرری کے عمل کو سیاسی سودے بازی میں تبدیل کر دیا ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایکشن کمیٹی کے ترجمان نے کہا کہ "یہ محض چند تقرریوں کا معاملہ نہیں، یہ عدلیہ کی روح کا سوال ہے۔ جب بینچ منڈی بن جائے تو عدالت کا تقدس برقرار نہیں رہتا۔”
احتجاجی تحریک کے تحت پیر سے ملک بھر کی عدالتوں میں عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسلام آباد، لاہور اور کراچی سمیت بڑے شہروں میں وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے، جس کا مقصد جے سی پی کو اپنے حالیہ فیصلوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ وکلاء کا مطالبہ ہے کہ تقرریوں کے لیے ایک ایسا ٹھوس اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار وضع کیا جائے جس میں ابہام کی کوئی گنجائش نہ ہو۔
دوسری جانب، جوڈیشل کمیشن نے تاحال ان سنگین الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے۔ تاہم، کمیشن کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام تقرریاں آئینی تقاضوں کے مطابق کی گئی ہیں اور کمیشن اپنے قانونی دائرہ اختیار میں رہ کر کام کر رہا ہے۔
عام سائلین کے لیے یہ تعطل ایک سنگین بحران کا پیش خیمہ ہے۔ پہلے ہی لاکھوں مقدمات کے بوجھ تلے دبی عدالتوں میں وکلاء کی ہڑتال نظامِ انصاف کو مکمل طور پر مفلوج کر سکتی ہے۔
ایکشن کمیٹی نے دھمکی دی ہے کہ جب تک تقرریوں کا موجودہ عمل ختم نہیں کیا جاتا، احتجاج کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وکلاء کی یہ تحریک عدلیہ کے اندرونی نظام میں تبدیلی لانے کے لیے کافی ثابت ہوگی یا یہ کشمکش طویل عدالتی تعطل کا باعث بنے گی۔
