راولپنڈی میں منگل کے روز ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں نالہ لئی کے تیز بہاؤ میں اپنے کمسن بیٹے کو بچانے کی کوشش میں ایک باپ اپنی جان گنوا بیٹا۔
متاثرہ شخص کی شناخت 38 سالہ محمد عرفان کے نام سے ہوئی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق عرفان کٹاریاں پل کے قریب نالے کے کنارے سے گزر رہے تھے کہ ان کا بیٹا اچانک پھسل کر پانی میں جا گرا۔ باپ نے لمحہ ضائع کیے بغیر بیٹے کو بچانے کے لیے چھلانگ لگا دی۔
مقامی افراد نے فوری طور پر بچے کو تو کھینچ کر باہر نکال لیا، تاہم نالے کا شدید بہاؤ عرفان کو اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ موقع پر موجود ایک دکاندار نے بتایا کہ پانی کی سطح اتنی تیزی سے بلند ہوئی کہ کسی کو سنبھلنے کا موقع نہ ملا۔
اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ تین گھنٹے تک جاری رہنے والے سرچ آپریشن کے بعد امدادی کارکنوں نے عرفان کی لاش نالے سے تقریباً دو کلومیٹر دور سے برآمد کر لی۔ ریسکیو حکام کے مطابق بچہ ہسپتال میں زیرِ علاج ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
مون سون کے دوران نالہ لئی کا بہاؤ ہمیشہ سے جان لیوا ثابت ہوتا رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بارہا تنبیہی بورڈز لگانے اور کنکریٹ کے کناروں کی موجودگی کے باوجود، شدید بارشوں میں یہ علاقہ انتہائی خطرناک ہو جاتا ہے۔
ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے نالے کے گنجان آباد حصوں کے قریب حفاظتی انتظامات کا دوبارہ جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔ تاہم، شہر کی غیر منصوبہ بند تعمیرات اور تجاوزات کے باعث ایسے حفاظتی اقدامات اکثر ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔
ہسپتال میں موجود لواحقین کے لیے یہ مون سون ایک ایسا صدمہ چھوڑ گیا ہے جس کا مداوا کسی حکومتی نوٹیفکیشن یا انتظامی دعووں سے ممکن نہیں ہے۔
