امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ نئے امن مذاکرات ایک نازک موڑ پر آ کھڑے ہوئے ہیں، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا اسلام آباد کا متوقع دورہ فی الحال مؤخر دکھائی دے رہا ہے۔ منگل، 21 اپریل 2026 کو سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ایران نے ابھی تک مذاکرات میں شرکت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، جس کے باعث سفارتی عمل غیر یقینی کا شکار ہے۔
صورتحال اس لیے بھی حساس ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان قائم دو ہفتے کی جنگ بندی بدھ، 22 اپریل 2026 کو ختم ہونے والی ہے۔ اگر اس سے پہلے بات چیت دوبارہ شروع نہ ہو سکی تو خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ وینس ایک امریکی وفد کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں، اور مجوزہ ٹیم میں اسٹیو وٹکوف بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم بعد کی رپورٹس کے مطابق وینس ابھی واشنگٹن ہی میں ہیں اور امریکی وفد کی روانگی مزید پالیسی مشاورت کے باعث تاخیر کا شکار ہوئی۔
پاکستانی حکام نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ اب تک ایرانی وفد کی شرکت کے بارے میں باضابطہ جواب کے منتظر ہیں۔ ادھر ایران کی طرف سے بھی یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ شرکت کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، اور تہران نے امریکی اقدامات پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
یہ تعطل اس لیے بھی اہم ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والا پہلا دورِ مذاکرات، جو 11 اور 12 اپریل کو ہوا تھا، اگرچہ دہائیوں میں امریکا اور ایران کے درمیان بلند ترین سطح کے براہِ راست رابطوں میں شمار کیا گیا، لیکن وہ کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوا۔ اسی وجہ سے دوسرے دور کی کامیابی کو جنگ بندی کے مستقبل سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔
اس وقت اصل خبر یہ نہیں کہ دورہ باضابطہ طور پر منسوخ ہو گیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ دورہ اور مذاکرات دونوں غیر یقینی میں پھنس گئے ہیں۔ وینس کا سفر اسی لیے رکا ہوا ہے کیونکہ ابھی یہ واضح نہیں کہ مذاکرات واقعی ہوں گے بھی یا نہیں۔ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے میں کم وقت رہ گیا ہے، اور سفارت کاری کی کھڑکی تیزی سے بند ہوتی نظر آ رہی ہے۔
