وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے 2027 کے مون سون سیزن سے قبل ملک بھر کے نکاسی آب کے نظام اور فلڈ مینجمنٹ انفراسٹرکچر کے جامع آڈٹ کا حکم دے دیا ہے۔ یہ اقدام موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بدلتے ہوئے پیٹرنز اور غیر متوقع بارشوں کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے۔
وزارتِ منصوبہ بندی کے حکام کے مطابق، اس فیصلے کا مقصد ہر سال مون سون کے دوران اختیار کیے جانے والے "ہنگامی موڈ” سے نکل کر طویل مدتی تیاریوں کو یقینی بنانا ہے۔ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نچلے علاقوں اور دریائے سندھ کے کناروں پر قائم بندوں کی جانچ پڑتال فوری شروع کریں تاکہ گزشتہ برسوں میں سامنے آنے والی خامیوں کو دور کیا جا سکے۔
وزارت کے ایک ذرائع نے بتایا کہ اس بار تکنیکی بنیادوں پر کام ہو رہا ہے۔ "ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ مئی کے مہینے کا انتظار کرنے کے بجائے، انفراسٹرکچر کی مضبوطی کو ابھی پرکھ لیا جائے۔ اگر کوئی ڈیم یا نالہ کمزور ہے، تو اسے ٹھیک کرنے کے لیے ہمارے پاس اب وقت ہے۔”
یہ ہدایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب موسمیاتی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ روایتی فلڈ میپنگ اب بدلتے ہوئے موسمی حالات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی۔ حکومت اب سیٹلائٹ پر مبنی پیش گوئی کرنے والے ماڈلز کو زمینی انفراسٹرکچر کے ڈیٹا کے ساتھ جوڑنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
اس حکمت عملی کا ایک بڑا چیلنج صوبائی سطح پر نکاسی آب کے نظام کی ناقص دیکھ بھال ہے۔ وفاقی وزیر کا یہ اقدام دراصل صوبائی محکموں پر دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش ہے تاکہ وہ اپنے علاقوں میں موجود رکاوٹوں کو وقت رہتے دور کریں۔
فنڈز کی فراہمی اور ٹھیکیداروں کی تعیناتی اس منصوبے کا سب سے مشکل مرحلہ ہوگا۔ وزارت کے حکام تسلیم کرتے ہیں کہ اگر آڈٹ میں بڑے پیمانے پر مرمت کی ضرورت نکلی، تو حکومت کو دیگر ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز کو ہنگامی بنیادوں پر سیلاب سے بچاؤ کے کاموں کی طرف منتقل کرنا پڑ سکتا ہے۔
آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا یہ پیشگی منصوبہ بندی موسمیاتی شدت کا مقابلہ کرنے میں کتنی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ فی الحال، وزارت نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سال کے اختتام تک اپنی ابتدائی رپورٹس جمع کرائیں تاکہ بجٹ کی تخصیص کو حتمی شکل دی جا سکے۔
