MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
Opinion

رائے: پاکستان کا قانونی نظام بچوں کے لیے نہیں بنایا گیا، یہ کلینک تبدیلی لانے کی کوشش کر رہا ہے

Last updated: جون 25, 2026 3:57 شام
Tasneem Juzar
Share
پاکستان کا قانونی نظام بچوں کے لیے نہیں بنایا گیا
پاکستان کا قانونی نظام بچوں کے لیے نہیں بنایا گیا
SHARE

پاکستان کے قانونی نظام پر اکثر یہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ یہ بچوں کی ضروریات اور مسائل کو مؤثر طریقے سے مدنظر نہیں رکھتا، خاص طور پر ان بچوں کے لیے جو خاندانی تنازعات، تحویل (کسٹڈی) کے مقدمات یا نوعمر انصاف کے نظام کا حصہ بنتے ہیں۔ قانونی طریقہ کار زیادہ تر بالغ افراد کو سامنے رکھ کر تشکیل دیے گئے ہیں، جس کے باعث بچے اکثر مناسب رہنمائی اور تحفظ سے محروم رہ جاتے ہیں۔

میری رائے میں بچوں کے لیے خصوصی قانونی معاونت فراہم کرنے والے اقدامات ایک زیادہ منصفانہ اور جامع نظامِ انصاف کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔ اس نوعیت کے خصوصی کلینکس اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دے سکتے ہیں کہ قانونی کارروائیوں کے دوران بچوں کے حقوق، فلاح و بہبود اور ان کی آواز کو مناسب اہمیت دی جائے۔

اگرچہ ایک ہی کلینک پاکستان میں بچوں کے انصاف سے متعلق تمام مسائل حل نہیں کر سکتا، لیکن یہ مستقبل کی اصلاحات کے لیے ایک مؤثر نمونہ ضرور بن سکتا ہے۔ بچوں کے لیے دوستانہ قانونی خدمات کو مضبوط بنانا اور ان کے حقوق کے بارے میں آگاہی بڑھانا نظامِ انصاف کو نوجوانوں کے لیے زیادہ قابلِ رسائی اور ہمدرد بنا سکتا ہے۔

بالآخر، قانونی نظام میں بچوں کا تحفظ صرف ایک قانونی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک زیادہ منصفانہ، مساوی اور بہتر معاشرے میں سرمایہ کاری بھی ہے۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article اسپین میں شدید گرمی کی لہر، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ اسپین میں شدید گرمی کی لہر، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ
Next Article ایرانی ریال ایرانی ریال: اگلی بڑی سرمایہ کاری یا ایک خطرناک شرط؟ بوسطان کا مؤقف
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
امریکی سفیر کی بے دخلی: کینیڈین پٹیشن پر 1 لاکھ 70 ہزار سے زائد دستخط
امریکی سفیر کی بے دخلی: کینیڈین پٹیشن پر 1 لاکھ 70 ہزار سے زائد دستخط
تازہ ترین سیاست
اگست 16, 2026
بیلجیئم: پرانی بریوری کی کھدائی کے دوران ایک کروڑ ڈالر کا سونا برآمد
بیلجیئم: پرانی بریوری کی کھدائی کے دوران ایک کروڑ ڈالر کا سونا برآمد
بریکنگ نیوز
اگست 16, 2026
آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن: ایل اے 17 پر چوہدری یاسین راٹھور کی کامیابی برقرار
آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن: ایل اے 17 پر چوہدری یاسین راٹھور کی کامیابی برقرار
تازہ ترین سیاست
اگست 16, 2026
اینتھروپک کے ممکنہ آئی پی او کے لیے 200 ارب ڈالر کی آمدنی کا ہدف
اینتھروپک کے ممکنہ آئی پی او کے لیے 200 ارب ڈالر کی آمدنی کا ہدف
Technology تازہ ترین
اگست 16, 2026
کارتک آریان کو صدر دروپدی مرمو کی یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کی دعوت
کارتک آریان کو صدر دروپدی مرمو کی یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کی دعوت
انٹرٹینمنٹ تازہ ترین
اگست 16, 2026
پون ملہوترا کی یامی گوتم، کارتک آریان اور سنجے مشرا کی اداکاری کی تعریف
پون ملہوترا کی یامی گوتم، کارتک آریان اور سنجے مشرا کی اداکاری کی تعریف
انٹرٹینمنٹ تازہ ترین
اگست 16, 2026

You Might Also Like

حوثی باغیوں کا یمنی فوجی کیمپ پر حملہ، متعدد ہلاکتیں
terrorismتازہ ترین

حوثی باغیوں کا یمنی فوجی کیمپ پر حملہ، متعدد ہلاکتیں

By Ayesha Masood

رائے: 24 گھنٹوں کے دوران دنیا بھر میں کئی طاقتور زلزلے

By Tasneem Juzar
امریکہ نے کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ
Opinion

رائے: امریکہ نے کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ کے دوران تجرباتی علاج فراہم کر دیا، آزمائشوں کو نئی پیش رفت کے قریب لے آیا

By Tasneem Juzar
یہ کیس اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ کس طرح منظم مالی جرائم عوامی صحت کے نظام کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ اس بات کی سنگین مثال ہوگی کہ میڈیکیئر کے وہ فنڈز جو حقیقی مریضوں کی مدد کے لیے ہوتے ہیں، ان کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ شیل کمپنیز اور جعلی بلنگ کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ غیر قانونی سرگرمی کو چھپانے کے لیے ایک منظم منصوبہ بندی کی گئی تھی، جو اس معاملے کو عام فراڈ سے زیادہ سنگین بناتا ہے۔ اس سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے بڑے پیمانے پر فراڈ کئی سالوں تک کیسے بغیر پکڑے جاری رہ سکتے ہیں، جو نگرانی اور مانیٹرنگ کے نظام میں ممکنہ خامیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اسی وقت یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس مرحلے پر یہ صرف الزامات ہیں، اور حتمی فیصلہ عدالتی عمل کے ذریعے ہی ہوگا کہ قصوروار کون ہے اور کون نہیں۔ ایسے کیسز اکثر مستقبل میں سخت قوانین اور بہتر نگرانی کے نظام کا سبب بنتے ہیں، خاص طور پر صحت کے حساس شعبے میں، تاکہ اس طرح کی فراڈ سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔
Opinion

فیراریز اور شیل کمپنیز: میڈیکیئر فراڈ اسکیمز میں پانچ افراد پر فردِ جرم عائد

By Tasneem Juzar
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?