کاراکاس — وینزویلا کے گنجان آباد علاقوں میں دو طاقتور زلزلوں کے بعد ہر طرف تباہی کے مناظر ہیں۔ امدادی ٹیمیں کنکریٹ کے ملبے اور مڑی ہوئی دھات کے نیچے دبے افراد کو نکالنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔
ہلاکتوں کی سرکاری تعداد ابھی سامنے نہیں آئی، لیکن حکومتی عہدیداروں اور بین الاقوامی مبصرین کے مطابق مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہے۔ دارالحکومت اور ساحلی قصبوں کے کئی محلے مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔
پہلا زلزلہ، جس کی شدت 7.6 ریکارڈ کی گئی، مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بجکر 12 منٹ پر آیا جب زیادہ تر لوگ گہری نیند میں تھے۔ تین گھنٹے بعد 7.2 شدت کا دوسرا جھٹکا لگا، جس نے افراتفری میں سڑکوں پر نکلنے والوں کو مزید دہشت زدہ کر دیا۔ زلزلے کا مرکز کاراکاس سے 40 میل شمال میں تھا، جس کے باعث لینڈ سلائیڈنگ سے ملک کی اہم سپلائی لائنیں کٹ کر رہ گئی ہیں۔
ریڈ کراس کی فیلڈ کوآرڈینیٹر ماریا ایلینا روہاس نے کہا، "ہم ایک تاریخی تباہی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہسپتال مریضوں سے بھر چکے ہیں، بجلی کا نظام درہم برہم ہے اور ملبے کے نیچے سے اب بھی لوگوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔”
تباہی کی شدت نے عالمی برادری کو فوری حرکت میں لا دیا ہے۔ اقوام متحدہ رسد کے ایک بڑے سلسلے کو مربوط کر رہا ہے، جبکہ میکسیکو، برازیل اور اسپین کی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں سائمن بولیور انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچ چکی ہیں۔ وینزویلا کے ساتھ طویل عرصے سے جاری سیاسی کشیدگی کے باوجود، علاقائی ہمسایہ ممالک طبی سامان، پانی صاف کرنے والی مشینیں اور بھاری مشینری بھیج رہے ہیں۔
ملبے تلے دبے افراد کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ زلزلے سے قبل ہی مقامی ایمرجنسی سروسز وسائل کی کمی کا شکار تھیں۔ اب جبکہ پل ٹوٹ چکے ہیں اور مواصلاتی رابطے منقطع ہیں، دور دراز پہاڑی دیہات تک پہنچنا ناممکن حد تک مشکل ہو گیا ہے۔
زلزلے کے مرکز کے قریب واقع ایک مسمار مضافاتی علاقے کے رہائشی لوئس مینڈیز نے بتایا، "میرا گھر تباہ ہو چکا، میرا بھائی لاپتہ ہے اور مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ کہاں جاؤں۔” وہ سریوں کے ڈھیر کے پاس کھڑے ریسکیو ٹیموں کا انتظار کر رہے تھے جو ابھی تک ان کی گلی تک نہیں پہنچ سکیں۔
حکومت نے 30 روزہ ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ صدر نکولس مادورو نے صبح سویرے سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے اتحاد کی اپیل کی اور کہا کہ صورتحال کو مستحکم کرنے کے لیے ہر قسم کی بین الاقوامی امداد قبول کی جائے گی۔
سورج ڈھلنے کے ساتھ ہی توجہ اندھیرے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش پر مرکوز ہو گئی ہے۔ درجہ حرارت میں کمی اور آفٹر شاکس کے خطرے کے درمیان، انسانی بنیادوں پر امدادی مشن ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔ آنے والے دنوں میں اصل سوال یہ نہیں کہ کتنے لوگ لقمہ اجل بنے، بلکہ یہ ہے کہ پہلے سے کمزور انفراسٹرکچر والا ملک اس قدر بڑی تباہی سے کیسے سنبھلے گا۔
