امریکی محکمہ دفاع نے اپنی حساس اور خفیہ نیٹ ورکس میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو تیز کرنے کے لیے کئی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ نئے معاہدے کر لیے ہیں، مگر اس تازہ فہرست میں اینتھروپک شامل نہیں۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق ان معاہدوں میں اوپن اے آئی، گوگل، مائیکروسافٹ، ایمیزون ویب سروسز، اینویڈیا، ایکس اے آئی، اسپیس ایکس اور اسٹارٹ اپ ریفلیکشن شامل ہیں۔
اینتھروپک کی عدم شمولیت اس لیے زیادہ نمایاں ہے کیونکہ وہ پہلے پینٹاگون کے فرنٹیئر اے آئی پروگرام کا حصہ رہ چکی ہے۔ 2025 میں محکمہ دفاع کے چیف ڈیجیٹل اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس آفس نے اینتھروپک، گوگل، اوپن اے آئی اور ایکس اے آئی کے ساتھ قومی سلامتی سے متعلق اے آئی منصوبوں کے لیے شراکت داری کا اعلان کیا تھا، اور اینتھروپک کو دو سالہ معاہدہ بھی ملا تھا جس کی زیادہ سے زیادہ مالیت 20 کروڑ ڈالر بتائی گئی تھی۔
اب صورتحال بدل چکی ہے۔ موجودہ رپورٹوں کے مطابق اینتھروپک اور پینٹاگون کے درمیان اختلافات اس بات پر بڑھے کہ کمپنی بعض فوجی استعمالات، خاص طور پر گھریلو نگرانی اور خودکار مہلک ہتھیاروں سے جڑے خدشات، قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھی۔ انہی تنازعات کے بعد امریکی حکومت نے اینتھروپک کو “سپلائی چین رسک” قرار دیا، اور اسی پس منظر میں اسے تازہ معاہدوں سے باہر رکھا گیا۔
محکمہ دفاع کے لیے یہ پیش رفت ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ پینٹاگون اب اپنی فوجی اور انٹیلیجنس سرگرمیوں میں تجارتی اے آئی ٹولز کو زیادہ تیزی سے شامل کرنا چاہتا ہے، تاکہ فیصلہ سازی، ڈیٹا تجزیہ، آپریشنل منصوبہ بندی اور خفیہ ماحول میں خودکار نظاموں کے استعمال کو بڑھایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے اس کے اے آئی ریپڈ کیپیبلٹیز سیل کو مرکزی کردار دیا جا رہا ہے۔
اینتھروپک کی غیر موجودگی اس خبر کو صرف ایک کاروباری یا تکنیکی پیش رفت نہیں رہنے دیتی۔ یہ اس بڑے سوال کو بھی سامنے لاتی ہے کہ دفاعی ادارے آخر کن کمپنیوں کے ساتھ آگے بڑھیں گے، اور کن اخلاقی حدود تک نجی اے آئی کمپنیاں ریاستی و عسکری استعمالات کے لیے آمادہ ہوں گی۔ دوسرے لفظوں میں، یہ صرف معاہدوں کی خبر نہیں بلکہ طاقت، ٹیکنالوجی اور اخلاقیات کے ٹکراؤ کی خبر بھی ہے۔
