پنجاب حکومت نے بسنت کی واپسی کے لیے سخت ضابطوں پر مبنی ایک نیا فریم ورک متعارف کر دیا ہے، جس کے تحت کئی برس بعد پتنگ بازی کو محدود اور نگرانی والے انداز میں اجازت دی جا رہی ہے۔ سرکاری معلومات اور حالیہ قانونی رپورٹس کے مطابق بسنت 2026 لاہور میں 6 سے 8 فروری تک متوقع ہے، مگر یہ کھلی عام اجازت نہیں بلکہ سخت شرائط کے ساتھ منظم تقریب ہوگی۔
سب سے اہم تبدیلی ڈور سے متعلق ہے۔ صرف منظور شدہ سوتی ڈور استعمال کی جا سکے گی، جبکہ دھاتی تار، نائلون ڈور، کیمیکل لگی ہوئی یا شیشے والی ڈور پر پابندی برقرار رہے گی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ماضی میں یہی خطرناک ڈوریں ہلاکتوں اور شدید زخمی ہونے کے کئی واقعات کی وجہ بنی تھیں، اسی لیے اب ان پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔
نئے نظام میں رجسٹریشن اور نگرانی کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ پتنگ اور ڈور بنانے والوں، فروخت کرنے والوں اور تاجروں کی باقاعدہ رجسٹریشن ہوگی، جبکہ دکانداروں کو کیو آر کوڈ کے ذریعے ٹریک کرنے کا نظام بھی رکھا گیا ہے۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنر کی نگرانی اور حکومتی منظوری کے بغیر بسنت کے انعقاد یا پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہوگی۔
عمر سے متعلق پابندیاں بھی شامل ہیں۔ 18 سال سے کم عمر بچوں کو پتنگ اڑانے کی اجازت نہیں ہوگی، اور خلاف ورزی کی صورت میں والدین یا سرپرستوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت بسنت کو صرف ثقافتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک حساس حفاظتی معاملہ سمجھ کر دیکھ رہی ہے۔
سزا کا پہلو بھی کافی سخت رکھا گیا ہے۔ ممنوعہ ڈور کی تیاری، فروخت، ذخیرہ اندوزی یا غیر مجاز استعمال پر بھاری جرمانے اور قید کی سزائیں رکھی گئی ہیں۔ مختصراً، حکومت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بسنت واپس تو آ رہی ہے، مگر پہلے جیسی نہیں — اس بار مکمل نگرانی اور سخت قانونی حدود کے ساتھ۔
