عثمان خان نے ایک بار پھر پاکستان سپر لیگ میں شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسی سنچری اسکور کی جس نے انہیں ٹورنامنٹ کی تاریخ کے نمایاں ناموں میں لا کھڑا کیا۔ ملتان سلطانز کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کی یہ سنچری اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف مارچ 2024 کے میچ میں آئی، اور اس کے ساتھ ہی وہ پی ایس ایل میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں کامران اکمل کے برابر آ گئے۔ دونوں کے نام اب تین، تین سنچریاں درج ہیں۔
اس کامیابی کو اور بھی خاص بنانے والی بات یہ تھی کہ عثمان خان نے یہ مقام نہایت کم اننگز میں حاصل کیا۔ جہاں کامران اکمل کو تین سنچریوں تک پہنچنے کے لیے 74 اننگز کھیلنی پڑیں، وہیں عثمان خان نے صرف 14 اننگز میں یہ اعزاز حاصل کر لیا۔ یہ فرق خود بتا دیتا ہے کہ ان کی بیٹنگ صرف مؤثر نہیں بلکہ غیر معمولی حد تک تیز اور فیصلہ کن بھی رہی ہے۔
عثمان خان پہلے ہی پی ایس ایل کی تیز ترین سنچری کا ریکارڈ اپنے نام کر چکے ہیں۔ انہوں نے 2023 میں صرف 36 گیندوں پر سنچری مکمل کر کے لیگ کی تاریخ میں ایک نئی مثال قائم کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام اب صرف ایک اچھے بلے باز کے طور پر نہیں بلکہ پی ایس ایل کے ریکارڈ ساز کھلاڑی کے طور پر لیا جاتا ہے۔
2024 کے سیزن میں ان کی کارکردگی نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا۔ رپورٹس کے مطابق وہ پی ایس ایل کی تاریخ میں ایک ہی سیزن میں لگاتار دو سنچریاں بنانے والے پہلے کھلاڑی بنے۔ تین اننگز میں 300 سے زائد رنز بنا کر انہوں نے ثابت کیا کہ وہ محض ایک اچھی فارم میں موجود بیٹر نہیں، بلکہ ایک ایسے کھلاڑی ہیں جو اکیلے میچ کا رخ بدل سکتے ہیں۔
عثمان خان کی بیٹنگ کی خاص بات صرف بڑے شاٹس نہیں بلکہ ان کا بے خوف انداز ہے۔ وہ آغاز سے ہی گیند بازوں پر دباؤ ڈال دیتے ہیں، جس کے بعد مخالف ٹیم کے منصوبے بکھرنے لگتے ہیں۔ ان کی یہی جارحانہ سوچ انہیں دوسرے بلے بازوں سے الگ کرتی ہے اور اسی باعث وہ مختصر فارمیٹ میں خاص طور پر خطرناک دکھائی دیتے ہیں۔
ملتان سلطانز کے لیے یہ اننگز ایک بار پھر اس بات کا ثبوت تھی کہ اگر عثمان خان ردھم میں ہوں تو ٹیم کی بیٹنگ کسی بھی حریف کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ اور پی ایس ایل کے لیے یہ اننگز اس نوعیت کی تھی جو برسوں تک یاد رکھی جاتی ہے۔ عثمان خان اب محض ایک ابھرتے ہوئے کھلاڑی نہیں رہے، بلکہ وہ ٹورنامنٹ کی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔
