وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے لیے اہم تجاویز پیش کر دی ہیں، جن کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنا، ٹیکس آمدن میں اضافہ کرنا اور آئی ایم ایف شرائط پر عملدرآمد یقینی بنانا ہے، جبکہ عوام کو محدود ریلیف دینے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ کا حجم 17 کھرب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز ہے۔ حکومت نے مالی خسارہ کم کرنے اور محصولات میں اضافے کے لیے مختلف اقدامات تجویز کیے ہیں۔
بجٹ کی اہم تجاویز
- جی ڈی پی گروتھ ہدف 4 سے 4.2 فیصد رکھنے کی تجویز
- مہنگائی کا ہدف تقریباً 8 فیصد مقرر کیے جانے کا امکان
- ایف بی آر کے ٹیکس وصولی ہدف میں اضافہ
- سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 5 سے 10 فیصد اضافے کی تجویز
- ایڈہاک الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کی تجویز
- کم از کم اجرت میں اضافے پر غور
- تاجروں اور کاروباری شعبے کے لیے نئے ٹیکس اقدامات
- ترقیاتی بجٹ اور پی ایس ڈی پی فنڈز میں ردوبدل متوقع
حکومتی حکام کے مطابق بجٹ کا مقصد معاشی اصلاحات کے ساتھ عوامی ریلیف فراہم کرنا بھی ہے۔ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری، برآمدات میں اضافے اور معاشی استحکام کے لیے بھی مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ قرضوں کے دباؤ، آئی ایم ایف شرائط اور مہنگائی کے باعث آئندہ مالی سال بھی چیلنجنگ رہے گا، تاہم حالیہ معاشی بحالی کے اشاروں سے کچھ مثبت توقعات پیدا ہوئی ہیں۔
