پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جمعرات کو اشارہ دیا ہے کہ صوبائی حکومت ڈرون حملوں میں شہریوں کے جانی نقصان کے خلاف قانون سازی پر غور کر رہی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ضلع خیبر میں حالیہ حملے کے بعد غم و غصہ بڑھا، جس میں ایک کمسن بچی جاں بحق اور اس کے خاندان کے چھ افراد زخمی ہوئے۔ صوبائی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈرون حملوں کے معاملے پر قانون لانے کی بات زیرِ غور آئی، مگر آئینی حدود کے باعث اس کی گنجائش محدود ہے، البتہ “کولیٹرل ڈیمیج” کے خلاف قانون سازی ممکن ہو سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے تاہم کسی مجوزہ بل کی تفصیلات، مسودے یا ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا۔ اس کے باوجود ان کے بیان کو سیاسی طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے یہ تاثر ملا کہ صوبائی حکومت شہری ہلاکتوں کے مسئلے پر محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔
اپنی تقریر میں آفریدی نے کہا کہ وہ بارہا ایسے حملوں پر احتجاج کر چکے ہیں، مگر بعد میں صرف یہ کہا جاتا ہے کہ معاملہ سمجھ لیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ایسے واقعات بار بار خیبر پختونخوا کے عام شہریوں کو ہی کیوں نشانہ بناتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے گزشتہ دو دہائیوں کے فوجی آپریشنز پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں نے نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کو نقصان پہنچایا۔
انہوں نے ایکشن اِن ایڈ آف سول پاور آرڈیننس کو بھی “سخت گیر قانون” قرار دیا۔ اس قانون پر پہلے بھی انسانی حقوق کے حلقوں اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے اعتراضات اٹھتے رہے ہیں، کیونکہ اس کے تحت سکیورٹی اداروں کو وسیع اختیارات حاصل ہیں۔
یہ بحث ایک ایسے ماحول میں ہوئی جب قبائلی اضلاع میں حالیہ مبینہ ڈرون حملوں کے بعد شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ خیبر میں پیش آنے والے واقعے کے بعد منعقدہ جرگے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دہشت گردی ہو یا ڈرون حملے، دونوں صورتوں میں شہریوں کی ہلاکت ناقابلِ قبول ہے۔ جرگے کے شرکا نے مؤقف اختیار کیا کہ قبائلی علاقوں کے لوگ “دوہری قیمت” ادا کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ہفتے کے روز ایک اور جرگہ بلایا جائے گا جس میں آئندہ کے لائحہ عمل پر فیصلہ ہوگا۔ صوبائی حکومت کے بعض عہدیداروں نے عندیہ دیا ہے کہ ردِعمل احتجاجی تحریک کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے، جس میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے باہر مظاہرے یا اسلام آباد کی جانب مارچ جیسے آپشن زیرِ غور آ سکتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ آفریدی کا یہ مؤقف بالکل نیا نہیں۔ وہ اس سے پہلے بھی یہ کہتے رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا امن کی حمایت کرتا ہے، مگر سکیورٹی کے نام پر شہری نقصان قبول نہیں کرے گا۔ اکتوبر 2025 میں بھی انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر کسی بے گناہ شہری کی جان گئی تو اس کا احتساب ہوگا، اور اسی دوران صوبائی اسمبلی میں اس نوعیت کی قانون سازی کی بات بھی سامنے آئی تھی۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ معاملہ واقعی قابلِ عمل قانون سازی تک پہنچے گا یا نہیں۔ فی الحال وزیراعلیٰ نے سیاسی سطح پر دروازہ کھول دیا ہے، مگر قانونی، آئینی اور عملی رکاوٹیں بدستور موجود ہیں۔ یہی آنے والے دنوں میں اصل امتحان ہوگا۔
