اسلام آباد — وفاقی دارالحکومت میں حال ہی میں گرفتار کیے گئے غیر ملکی شہریوں سے جاری تفتیش کے دوران سکیورٹی اداروں کو اہم شواہد ملے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیر حراست افراد نہ صرف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے بلکہ ان کے روابط حساس تنصیبات کی نگرانی سے بھی جڑے ہو سکتے ہیں۔
اس آپریشن کا مرکز اسلام آباد کے مضافاتی علاقے رہے جہاں خفیہ اداروں نے ایک مصدقہ اطلاع پر کارروائی کی۔ گرفتار ہونے والے افراد کے پاس سے برآمد ہونے والے جدید مواصلاتی آلات نے تفتیشی ٹیموں کو بھی چونکا دیا ہے۔ یہ عام آلات نہیں بلکہ انکرپٹڈ ڈیوائسز ہیں جنہیں توڑنے کے لیے فرانزک ماہرین کی مدد لی جا رہی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ افراد سیاحتی ویزے پر پاکستان آئے تھے مگر ان کی نقل و حرکت کا انداز کسی عام سیاح والا نہیں تھا۔
"ہم نے ان کے ڈیٹا میں ایسے پیٹرنز دیکھے ہیں جو کسی عام کاروباری یا سیاحتی دورے سے مطابقت نہیں رکھتے،” ایک سکیورٹی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "یہ لوگ ڈیٹا اکٹھا کر رہے تھے، اور اب ہماری ترجیح یہ معلوم کرنا ہے کہ یہ معلومات کس کو منتقل کی جا رہی تھیں۔”
وفاقی تحقیقاتی ادارے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اب ان مقامی سہولت کاروں کی تلاش میں ہیں جنہوں نے ان غیر ملکیوں کو رہائش اور دیگر سہولیات فراہم کیں۔ دارالحکومت میں غیر ملکیوں کی جانب سے کاروباری مراکز میں چھپ کر کام کرنے کے واقعات میں حالیہ اضافے کے بعد حکومت نے ویزا پالیسی کو پہلے ہی سخت کر رکھا ہے، مگر یہ گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ نیٹ ورک اب بھی سرگرم ہے۔
زیر حراست افراد کو ایک انتہائی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے۔ وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے فی الحال کسی بھی ملک کا نام لینے سے گریز کیا ہے، تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کیس کی نوعیت "قومی سلامتی” سے جڑی ہے۔
تفتیشی ٹیمیں اب ان ڈیوائسز سے ملنے والے ڈیٹا کا موازنہ ماضی کے کچھ دیگر واقعات سے کر رہی ہیں۔ اگر یہ شواہد ثابت ہو گئے تو نہ صرف ان افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی بلکہ ان ممالک کے ساتھ سفارتی سطح پر بھی سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں۔
فی الحال تفتیش کا دائرہ کار وسیع ہو چکا ہے اور توقع ہے کہ اگلے چند روز میں ان کے مقامی نیٹ ورک کے اہم کرداروں کو بھی حراست میں لیا جائے گا۔ کیس کا حتمی فیصلہ اب اس ڈیٹا پر منحصر ہے جو فرانزک رپورٹ کے بعد سامنے آئے گا۔
