کراچی — بحیرہ عرب میں ایک آئل ٹینکر کے پھنسنے کے بعد ایندھن کا اخراج شروع ہو گیا ہے، جس سے ساحل پر موجود کچھووں کی افزائشِ نسل کے مقامات اور ہجرت کرنے والے پرندوں کی قیام گاہیں شدید خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
منگل کی شب خراب موسم کے دوران یہ جہاز ساحل کے قریب ریت میں دھنس گیا تھا، جس کے بعد اس کے نچلے حصے میں شگاف پڑ گیا۔ بحری حکام نے تصدیق کی ہے کہ تیل کی ایک بڑی تہہ ساحل کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب نایاب سبز کچھوے ساحل پر انڈے دے رہے ہیں۔
"تیل کے دھبے ان ساحلوں کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں کچھوے انڈے دیتے ہیں،” ایک میرین بائیولوجسٹ نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ "اگر تیل ریت پر جم گیا تو یہ انڈوں کا دم گھوٹ دے گا اور ساحل کو زہریلا بنا دے گا، جس سے اگلی نسل کا بچنا ناممکن ہو جائے گا۔”
یہ خطرہ صرف کچھووں تک محدود نہیں ہے۔ یہ ساحلی پٹی وسطی ایشیائی راستے سے سفر کرنے والے ہزاروں مہاجر پرندوں کا اہم پڑاؤ ہے۔ ماہرینِ پرندوں کو خدشہ ہے کہ اگر پرندے تیل سے آلودہ پانی میں اترے تو ان کے پروں میں تیل جم جائے گا، جس سے ان کی اڑنے کی صلاحیت ختم ہو جائے گی اور زہریلا مادہ جسم میں جانے سے ان کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔
مقامی امدادی ٹیمیں تیل کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن سمندر کی اونچی لہریں اور تیز کرنٹ ان کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ جہاز کی انتظامیہ نے ہنگامی پلان پر عملدرآمد کا دعویٰ کیا ہے، تاہم ساحل تک پہنچنے والا تیل زمینی حقائق کی عکاسی کر رہا ہے۔
حکومتی اداروں کی جانب سے جہاز کو نکالنے یا ساحل کی صفائی کے لیے ابھی تک کوئی واضح لائم لائن نہیں دی گئی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لہریں تیل کو ساحل کے مزید دور دراز حصوں تک پہنچا رہی ہیں، جس سے ماحولیاتی تباہی کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔
اس واقعے کے طویل مدتی اثرات کا اندازہ ہفتوں بعد ہی ہو سکے گا، لیکن ساحل پر موجود انڈوں اور آبی حیات کے لیے یہ خطرہ اب گھنٹوں کی بات بن چکا ہے۔
