لاہور — لاہور کے گنجان آباد علاقے رنگ محل میں منگل کی صبح ایک خستہ حال مکان کی چھت گرنے سے چار افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ مرنے والوں میں دو خواتین اور دو بچے شامل ہیں۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب گھر کے مکین گہری نیند میں تھے۔ چھت کا ملبہ گرنے سے نیچے موجود افراد دب گئے، جس سے علاقے میں کہرام مچ گیا۔ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ گئیں، تاہم اندرون لاہور کی تنگ اور پیچیدہ گلیوں نے امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالی۔ بھاری مشینری گلیوں میں داخل نہ ہو سکی، جس کے باعث ریسکیو اہلکاروں کو ملبہ ہاتھوں سے ہٹانا پڑا۔
ایک امدادی کارکن نے جائے وقوعہ پر صحافیوں کو بتایا، "گلی اتنی تنگ تھی کہ کرین لانا ناممکن تھا۔ ہم نے اپنے ہاتھوں اور چھوٹے اوزاروں کی مدد سے ملبے تلے دبے لوگوں کو باہر نکالا۔”
مقامی رہائشیوں کے مطابق یہ مکان کئی دہائیوں پرانا تھا اور ضلعی انتظامیہ نے اسے متعدد بار ‘خطرناک’ قرار دے کر نوٹس بھی جاری کیے تھے۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ متبادل رہائش نہ ہونے اور شہر میں مہنگائی کے باعث وہ اس بوسیدہ عمارت میں رہنے پر مجبور تھے۔
یہ سانحہ لاہور کی قدیم عمارتوں کی حفاظت پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ والڈ سٹی اتھارٹی بارہا خستہ حال عمارتوں کے مکینوں کو انخلا کا کہہ چکی ہے، لیکن انتظامیہ کی جانب سے عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ گھر نسل در نسل منتقل ہونے والی وراثت ہیں، جس کی وجہ سے مکین اپنی جان اور گھر کے درمیان کسی ایک کو چننے کی کشمکش میں مبتلا رہتے ہیں۔
زخمیوں کو طبی امداد کے لیے میو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے اردگرد کی گلیوں میں موجود عمارتوں کے اسٹرکچرل آڈٹ کا حکم تو دے دیا ہے، مگر رنگ محل کے متاثرین کے لیے یہ اقدامات بہت دیر سے اٹھائے گئے ہیں۔
متاثرہ مقام کو سیل کر دیا گیا ہے اور امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ حکومت کی جانب سے تاحال جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے کسی معاوضے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا شہر کی بوسیدہ عمارتوں کا یہ سلسلہ کسی اور سانحے کے بغیر رکے گا یا انتظامیہ کی خاموشی مزید جانیں لے گی۔
