ایتھنز — تیز ہواؤں اور خشک موسم نے یونان کے دارالحکومت کے قریب لگی آگ کو بے قابو کر دیا ہے۔ پیر کی شب شروع ہونے والی یہ آگ اب تک دو افراد کی جان لے چکی ہے، جبکہ سینکڑوں شہری اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
آگ کا آغاز ایتھنز سے تقریباً 35 کلومیٹر شمال میں واقع علاقے ’ورناواس‘ سے ہوا۔ 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں نے آگ کے شعلوں کو تیزی سے پھیلایا، جس سے فائر فائٹرز کے بنائے گئے حفاظتی حصار ناکام ہو گئے۔ منگل کی صبح تک دھوئیں کے بادلوں نے ایتھنز کے تاریخی مقامات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے شہر میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔
پولیس کے مطابق، ورلیسیا کے علاقے میں ایک فیکٹری کے ملبے سے دو لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ فرانزک ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں تاکہ ہلاک ہونے والوں کی شناخت کی جا سکے۔
ہیلینک فائر سروس کے ایک سینئر افسر نے صورتحال پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "ہم ہوا کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ جیسے ہی ہم آگ پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں، ہوا کا ایک جھونکا شعلوں کو کسی اور سمت دھکیل دیتا ہے۔ یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔”
اٹیکا کے علاقے میں 700 سے زائد فائر فائٹرز، 190 گاڑیوں اور پانی گرانے والے طیاروں کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ رواں برس ریکارڈ توڑ گرمی اور موسم سرما میں بارشوں کی کمی نے جنگلات کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں معمولی چنگاری بھی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہے۔
یونانی حکومت نے یورپی یونین کے سول پروٹیکشن میکانزم کو فعال کر دیا ہے۔ فرانس، اٹلی اور چیک جمہوریہ نے مدد کی یقین دہانی کرائی ہے، اور خصوصی طیارے بدھ کی دوپہر تک امدادی کارروائیوں میں شامل ہو جائیں گے۔
متاثرہ علاقوں کے رہائشی اپنی جمع پونجی چھوڑ کر ساحل کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔ مقامی ہسپتالوں میں دھوئیں سے متاثرہ درجنوں افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔
وزیر اعظم کریاکوس میتسوتاکیس نے اپنی چھٹیاں مختصر کر کے ایتھنز واپسی کی ہے اور ہنگامی کابینہ اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔ ان پر عوامی حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ دور دراز علاقے سے شروع ہونے والی آگ دارالحکومت کے گنجان آباد علاقوں تک کیسے پہنچی۔
اگلے 48 گھنٹوں تک درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر رہنے کی پیش گوئی ہے۔ فائر فائٹرز اب آگ پر قابو پانے کے بجائے رہائشی علاقوں کو بچانے کے لیے اپنی تمام تر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، لیکن اس سب کا انحصار ہوا کے رخ پر ہے۔
