امریکا کا ایک بڑا حصہ شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، جہاں درجہ حرارت تین ہندسوں تک پہنچ چکا ہے اور 10 کروڑ سے زائد افراد کے لیے ہیٹ الرٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔ صحرائی علاقوں سے لے کر شمال مشرقی ساحل تک، یہ حبس زدہ موسم نہ صرف معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر رہا ہے بلکہ بجلی کے نظام اور ہنگامی طبی سہولیات پر بھی شدید دباؤ ڈال رہا ہے۔
گرمی کا یہ عالم محض تکلیف دہ نہیں، بلکہ جان لیوا ہے۔ فینکس جیسے شہروں میں، جہاں پارہ لگاتار چوتھے روز 110 ڈگری فارن ہائیٹ سے اوپر رہا، شہری انتظامیہ نے ایئر کنڈیشننگ سے محروم افراد کے لیے خصوصی کولنگ سینٹرز کھول دیے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مڈویسٹ اور مڈ اٹلانٹک کے علاقوں میں نمی کے باعث درجہ حرارت 115 ڈگری فارن ہائیٹ محسوس ہو رہا ہے، جہاں چند منٹ کی دھوپ بھی ہیٹ اسٹروک کا سبب بن سکتی ہے۔
بجلی فراہم کرنے والی کمپنیاں ہائی الرٹ پر ہیں۔ کئی ریاستوں میں گرڈ آپریٹرز نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دوپہر کے اوقات میں بجلی کا استعمال کم کریں تاکہ گرڈ فیل ہونے سے بچا جا سکے۔ ایئر کنڈیشنرز کے مسلسل چلنے سے بجلی کی طلب اپنے عروج پر ہے، جس سے انفراسٹرکچر پر غیر معمولی بوجھ پڑ رہا ہے۔
کلائمیٹ پریڈکشن سینٹر کے ایک ماہر موسمیات کا کہنا ہے کہ "ہم ایک ایسا رجحان دیکھ رہے ہیں جس میں گرمی زیادہ دیر تک ٹھہرتی ہے اور زیادہ شدت سے حملہ آور ہوتی ہے۔ یہ کوئی وقتی واقعہ نہیں؛ ماحول گرمی کو جذب کر چکا ہے اور یہ رات کے اوقات میں بھی کم نہیں ہو رہی۔”
میدانی اور بیرونی کام کرنے والے افراد کے لیے صورتحال سنگین ہے۔ تعمیراتی مزدور، کھیتوں میں کام کرنے والے کسان اور ڈلیوری کرنے والے ملازمین اب سورج ڈھلنے سے قبل ہی کام ختم کرنے پر مجبور ہیں۔ ان احتیاطی تدابیر کے باوجود، متاثرہ علاقوں کے ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کے شکار مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
یہ موسمِ گرما کا زور ابھی ٹوٹتا نظر نہیں آ رہا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، پیر تک شمالی میدانی علاقوں میں کچھ بہتری کی امید ہے، تاہم گرمی کی یہ لہر اب گلف کوسٹ کی جانب بڑھ رہی ہے، جس سے لاکھوں مزید افراد متاثر ہوں گے۔
شہری منصوبہ ساز اب ایک تلخ حقیقت کے سامنے کھڑے ہیں۔ 90 کی دہائی کے موسم کے مطابق تعمیر کیا گیا انفراسٹرکچر اب 2020 کی دہائی کی تپش برداشت کرنے سے قاصر ہے۔ سڑکیں اکھڑ رہی ہیں اور بجلی کی طلب بڑھتی جا رہی ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ اس ہفتے کو کیسے گزارا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اس بدلتے ہوئے موسم میں زندگی کو کیسے محفوظ بنایا جائے۔
