کراچی میں نادرا کے ایک اعلیٰ افسر پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے ہیں، جس کے بعد ان کے اہل خانہ نے بازیابی کے لیے مقامی پولیس کو درخواست جمع کرا دی ہے۔ واقعے نے نادرا کے حلقوں اور حکومتی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ متعلقہ افسر حساس ڈیٹا بیس پر کام کر رہے تھے۔
متاثرہ خاندان کا مؤقف ہے کہ منگل کی شب نامعلوم افراد نے نجی گاڑی میں سوار ہو کر افسر کو راستے سے حراست میں لیا۔ بدھ کی صبح اہل خانہ نے مقامی تھانے پہنچ کر ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کی، جس میں انہوں نے نادرا میں افسر کی حساس ذمہ داریوں کے پیش نظر ان کی جان کو لاحق خطرات کا خدشہ ظاہر کیا۔
پولیس حکام نے شکایت موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ افسر کے دفتر سے گھر تک کے راستے کی سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تفتیشی ٹیمیں واقعے کی جگہ کے ارد گرد موجود کیمروں کی مدد سے مشکوک گاڑی کو ٹریس کرنے میں مصروف ہیں۔
ایک اعلیٰ پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم کسی بھی امکان کو رد نہیں کر رہے، تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔” انہوں نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا کہ آیا اس گمشدگی کا تعلق نادرا کے حساس ڈیٹا سیکیورٹی امور سے ہے یا نہیں۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب نادرا کے اندرونی ڈیٹا سیکیورٹی پروٹوکول اور آڈٹ پر پہلے ہی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ساتھی ملازمین کا کہنا ہے کہ لاپتہ افسر اپنے کام میں انتہائی محتاط تھے اور گھر پر کبھی دفتری امور پر بات نہیں کرتے تھے۔
واقعے کے چوبیس گھنٹے گزرنے کے بعد بھی کسی جانب سے تاوان یا رابطے کی اطلاع نہیں ملی، جس سے اہل خانہ کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ فی الحال پولیس کی توجہ ڈیجیٹل شواہد اکٹھا کرنے پر مرکوز ہے۔ اگر افسر کو جلد بازیاب نہ کرایا گیا تو صوبائی انتظامیہ پر عوامی اور دفتری سطح پر جوابدہی کا دباؤ بڑھنا یقینی ہے۔
