اسلام آباد – ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغان حکومت نے اپنے انتظامی ڈھانچے میں "سینکڑوں ٹی ٹی پی حامی عناصر” کو شامل کر لیا ہے، جو خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خدشات پیدا کر رہا ہے۔
ہفتہ کے روز دفتر خارجہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈار نے بتایا کہ پاکستان اور چین نے کابل حکومت کو واضح طور پر اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور بیجنگ نے افغانستان پر زور دیا ہے کہ یا تو ٹی ٹی پی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے یا پھر ان کے جنگجو پاکستان کے حوالے کرے۔
"پاکستان اور چین دونوں کو سکیورٹی خدشات ہیں۔ ہم نے افغانستان سے صاف کہہ دیا ہے کہ یا تو ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرے یا ان کو ہمارے حوالے کرے۔ افغان حکومت نے اپنے نظام میں سینکڑوں ٹی ٹی پی کے حامی شامل کر رکھے ہیں،” ڈار نے کہا۔
ڈار نے بتایا کہ کابل میں اپنی ملاقات کے دوران افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے انہیں یقین دلایا کہ افغانستان نے سرحدی دراندازی روکنے کے لیے 700 بارڈر پوسٹ قائم کی ہیں۔
"میں ان کی نیت پر شک نہیں کرتا اور نہ ہی ہماری تجاویز پر کسی قسم کی مزاحمت ہوئی۔ ہماری صرف ایک ہی مانگ ہے — ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے افغانستان کی جانب سے پاکستانی فضائی حملوں کے الزامات پر بھی بات کی۔ کابل نے جمعرات کو ننگرہار اور خوست میں مبینہ حملوں پر پاکستان کے سفیر کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج کیا تھا۔ اس پر ڈار نے کہا:
"افغانستان کے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ میں آج صبح ہی ان کا ڈیمارش پڑھ سکا ہوں۔”
چین، پاکستان اور افغانستان کے حالیہ سہ فریقی اجلاس میں مشترکہ اعلامیہ نہ آنے کے سوال پر ڈار نے کہا کہ جدید سفارتکاری کا طریقہ بدل چکا ہے، ہر ملک نے اپنی پریس ریلیز جاری کی ہے جو کسی مشترکہ اعلامیے کے مترادف ہے۔
وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ چین نے اصولی طور پر سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے کی پاکستانی تجویز قبول کر لی ہے اور کابل کو پشاور ہائی وے سے منسلک کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
