اسرائیلی فوج کی ایک کارروائی کے دوران مغربی کنارے کے جنوبی گاؤں الریحیہ میں 10 سالہ فلسطینی بچہ محمد الحلاق فائرنگ سے جاں بحق ہو گیا۔
مقامی افراد کے مطابق محمد اپنے دوستوں کے ساتھ اسکول کے میدان میں فٹبال کھیل رہا تھا جب اسرائیلی فوجی علاقے میں داخل ہوئے۔ بچے خوفزدہ ہو کر بھاگنے لگے، اسی دوران فائرنگ شروع ہو گئی۔
ایک عینی شاہد کے والد نے بتایا:
“کوئی تصادم نہیں تھا، کوئی اشتعال انگیزی نہیں تھی، بچے بس ڈر گئے تھے اور بھاگ رہے تھے۔”
محمد کو پیٹ میں گولی لگی اور قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ درجنوں لوگ ایمبولینس کے گرد جمع ہیں جبکہ بچے کی لاش گاؤں واپس لائی جا رہی ہے۔ والدین روتے ہوئے اپنے بیٹے کے چہرے کو چوم رہے تھے۔
محمد کی والدہ نے بتایا کہ وہ ایک ذہین طالب علم تھا جو پرندوں سے محبت کرتا تھا اور اکثر کہا کرتا تھا کہ وہ دل کا ڈاکٹر بننا چاہتا ہے۔
“صبح اس نے خوشی خوشی اپنا نیا بستہ دکھایا تھا۔ وہ ہمیشہ بہترین نمبر لاتا تھا،” والدہ نے آبدیدہ ہو کر کہا۔
اسرائیلی فوج (IDF) کا کہنا ہے کہ فوجیوں نے پتھراؤ کے جواب میں فائرنگ کی۔ فوج کے مطابق “نشانے لگے” اور کوئی فوجی زخمی نہیں ہوا۔
البتہ اسرائیلی نشریاتی ادارے کان نیوز کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی فوجی تحقیق میں فائرنگ کو قواعدِ مصروفیت کی خلاف ورزی قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ “ہتھیاروں کا غلط استعمال” کیا گیا۔
یہ واقعہ اسی یونٹ کی جانب سے دوسری خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے شمالی مغربی کنارے کے علاقے قباطیہ میں ایک 20 سالہ فلسطینی نوجوان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا، جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس نے فوج پر دھماکہ خیز مواد پھینکا۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی امور کے دفتر (OCHA) کے مطابق، سال 2025 کے آغاز سے اب تک مغربی کنارے میں تقریباً 200 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 40 بچے بھی شامل ہیں۔
