بیجنگ — وزیرِاعظم شہباز شریف بدھ کے روز چین کی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی پریڈ میں شریک ہوئے۔ یہ پریڈ دوسری جنگِ عظیم کے اختتام کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر تیانانمن اسکوائر میں منعقد کی گئی۔
تقریب میں 50 ہزار سے زائد تماشائی موجود تھے جنہوں نے جدید ہتھیاروں، ہائپر سونک میزائلز، بغیر پائلٹ کے ڈرونز اور مارچنگ دستوں کا مظاہرہ دیکھا۔
صدر شی جن پنگ نے روس کے ولادیمیر پیوٹن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سمیت غیر مغربی ممالک کے سربراہان کا استقبال کیا۔ کم جونگ اُن پہلی مرتبہ دہائیوں بعد کسی چینی فوجی پریڈ میں شریک ہوئے۔
70 منٹ تک جاری رہنے والے اس پروگرام کو چین کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت اور عالمی سیاست میں اثرورسوخ کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ صدر شی نے اپنے خطاب میں "طاقت کی سیاست” کی مخالفت اور نئے عالمی نظام میں چین کے کردار پر زور دینے کا عندیہ دیا۔
بیجنگ میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، اہم شاہراہیں بند رہیں اور ہزاروں رضاکار تعینات کیے گئے تاکہ تقریب پرامن طریقے سے منعقد ہو سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ پریڈ نہ صرف چین کی فوجی صلاحیتوں کی جھلک ہے بلکہ صدر شی کی اس خواہش کو بھی نمایاں کرتی ہے کہ عالمی نظام میں بیجنگ کو مرکزی کردار حاصل ہو۔
