ب اے آر رحمان نے ’’خواجہ میرے خواجہ‘‘ تخلیق کیا، اُس وقت اُن کے ذہن میں کسی فلم کا خیال نہیں تھا۔ یہ ایک روحانی لمحہ تھا، ایک دل سے نکلا ہوا نذرانہ — جو خواجہ معین الدین چشتیؒ کے نام کیا گیا، اور قسمت نے بعد میں اسے ’’جودھا اکبر‘‘ کا حصہ بنا دیا۔
اجمیر کی درگاہ پر inspiration کا لمحہ
رحمان بتاتے ہیں کہ وہ برسوں پہلے اجمیر شریف کی درگاہ پر حاضری کے لیے گئے تھے۔ وہاں ایک خادم اُن کے پاس آیا اور کہا:
’’آپ نے ‘پیا حاجی علی’ تو بنایا، مگر خواجہ پر کبھی کیوں نہیں؟‘‘
رحمان مسکرا دیے۔ ’’میں نے کہا، پتا نہیں… inspiration نہیں آرہی۔ آپ دعا کیجیے کہ مجھے وہ ملے،‘‘ وہ یاد کرتے ہیں۔
فضا میں جنم لینے والی دُھن
کچھ عرصے بعد، آسٹریلیا جاتے ہوئے ایک فلائٹ میں رحمان ایک رومانوی نغمہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے، مگر کوئی دھن نہیں بن پا رہی تھی۔ اسی دوران اچانک دل کا رخ بدل گیا۔
’’میں نے دھن کو بدل کر ایک روحانی انداز میں بجانا شروع کیا، ریکارڈ کیا، اور کشف سے کہا کہ اس پر بول لکھو،‘‘ رحمان نے بتایا۔
یوں ایک عام سفر میں، فضا کے بیچوں بیچ ’’خواجہ میرے خواجہ‘‘ پیدا ہوا۔
ایک گیت جو اپنی گھڑی کا منتظر تھا
یہ نغمہ کچھ عرصے تک رحمان کے پاس محفوظ رہا۔ پھر جب ہدایتکار آشو توش گواریکر نے اُنہیں ’’جودھا اکبر‘‘ کی کہانی سنائی — جس میں اکبر بادشاہ کا روحانی سفر اجمیر درگاہ تک دکھایا جانا تھا — تو رحمان کو فوراً اپنا وہ نغمہ یاد آیا۔
’’میں نے وہ گیت سنایا، اور گواریکر جیسے ساکت ہو گئے۔ وہ دو لائنیں چاہتے تھے، مگر پورا گانا سن کر بولے: ‘یہی رہے گا، کچھ نہیں بدلے گا۔’‘‘
رحمان نے بھی ایک شرط رکھی — ’’اگر شامل کرنا ہے تو جوں کا توں رکھنا۔‘‘
روحانی تعلق اور سادگی کا جادو
رحمان کے مطابق ’’خواجہ میرے خواجہ‘‘ صرف ایک نغمہ نہیں بلکہ ایک عبادت ہے۔ وہ تقریباً پندرہ سال سے اجمیر شریف جا رہے تھے اور دل میں ہمیشہ خواہش تھی کہ ایک ایسا کلام بنائیں جو اس جگہ کی سکونت اور روحانیت کو سمیٹ لے۔ اسی لیے انہوں نے گانے کی دھن کو بہت سادہ رکھا — صرف آواز اور پرکشن پر مشتمل — تاکہ روحانیت برقرار رہے۔
برکت جو ساتھ چلی آئی
رحمان اکثر کہتے ہیں کہ یہ گیت اُن کے لیے برکت ثابت ہوا۔ ’’جودھا اکبر‘‘ کے تقریباً دو سال بعد انہیں ’’Slumdog Millionaire‘‘ کے لیے دو آسکر ایوارڈ ملے۔
’’وہ خواجہ کی برکت تھی،‘‘ وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں۔
آج ’’خواجہ میرے خواجہ‘‘ صرف ایک فلمی نغمہ نہیں — یہ ایک روحانی ترانہ ہے جو نسلوں کو جوڑتا جا رہا ہے۔ ایمان، موسیقی اور تقدیر — تینوں نے مل کر ایک ایسا شاہکار پیدا کیا جو ہمیشہ دلوں کو چھوتا رہے گا۔
