دو مرتبہ آسکر ایوارڈ جیتنے والی پاکستانی فلم ساز شرمین عبید چنائے نے نئی شارٹ فلم ڈونٹ بی لیٹ، مائرہ (Don’t Be Late, Myra) میں بطور ایگزیکٹو پروڈیوسر شمولیت اختیار کر لی ہے۔ اس خبر نے نہ صرف فلمی دنیا بلکہ سماجی موضوعات پر کام کرنے والوں میں بھی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔
ایک کہانی جو دل کو چھو لیتی ہے
اس فلم کی ہدایت کاری معروف ڈائریکٹر عفیہ نیتھنیل نے کی ہے — وہی جنہوں نے سوشل تھرلر دختر بنائی تھی۔
ڈونٹ بی لیٹ، مائرہ ایک 10 سالہ بچی "مائرہ” (جسے انایہ عمر نے ادا کیا ہے) کی کہانی ہے جو اسکول سے واپسی پر اپنی گاڑی مس کر جاتی ہے اور اکیلی لاہور کی مصروف سڑکوں پر نکل پڑتی ہے۔
یہ فلم خوف، ہمت اور معاشرتی حقیقت کے سنگم پر کھڑی ہے — جہاں ایک معمولی سی تاخیر زندگی بدل سکتی ہے۔
عفیہ نیتھنیل کے مطابق، یہ کہانی اُن حقیقی خدشات سے جنم لیتی ہے جو ہر ماں باپ محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، “یہ مختصر فلم ہے، مگر اس میں اٹھنے والے سوال بہت بڑے ہیں — اعتماد، تحفظ اور آزادی کے بارے میں۔”
شرمین کی شمولیت: کہانی کو نئی آواز
فلم میں بطور ایگزیکٹو پروڈیوسر شامل ہونے کے بعد، شرمین عبید چنائے نے اس منصوبے کو “خواتین اور بچوں کی اصل کہانیوں کی نمائندگی” قرار دیا۔
انہوں نے کہا:
“ڈونٹ بی لیٹ، مائرہ ایک ایسی آواز ہے جو ہر اُس خوف کو بیان کرتی ہے جسے چھوٹی بچیاں روز محسوس کرتی ہیں — مگر ساتھ ہی وہ ان کی ہمت اور زندہ رہنے کے حوصلے کا جشن بھی مناتی ہے۔”
“اس فلم کے پیچھے کھڑے ہونا میرے لیے صرف ذمہ داری نہیں بلکہ خوشی کی بات ہے۔”
بین الاقوامی فلم میلوں میں پذیرائی
یہ فلم پہلے ہی کئی بین الاقوامی فلم میلوں میں اپنی جگہ بنا چکی ہے، جن میں برگن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (نیوجرسی) اور مونٹریال انٹرنیشنل فلم فیسٹیول شامل ہیں۔
تنقید نگاروں نے اسے “حقیقت کی تلخیوں کو فن کے ذریعے بیدار کرنے والی کہانی” قرار دیا ہے۔
طاقتور ٹیم کی تشکیل
اس منصوبے میں شرمین عبید چنائے کے ساتھ دیگر ایگزیکٹو پروڈیوسرز میں روحی مرزا پانڈیا (بوکس آفس گرو میڈیا / راسا فلم گروپ)، رینی باسٹیئن (Transamerica)، اور شریہری ساتھے (Stay Awake) شامل ہیں۔
یہ مضبوط پروڈکشن ٹیم فلم کو عالمی سطح پر زیادہ پذیرائی دلانے کے لیے پُرعزم ہے۔
کہانی سے زیادہ، ایک احساس
ہدایتکار عفیہ نیتھنیل کہتی ہیں:
“ہر والدین کے لیے وہ لمحہ خوفناک ہوتا ہے جب بچہ نظروں سے اوجھل ہو جائے۔ میں نے اسی لمحے کو ایک بچی کی نظر سے دکھانا چاہا۔”
شرمین عبید چنائے کی شمولیت سے یہ فلم اب نہ صرف ایک فنی کام بلکہ ایک سماجی پیغام بھی بن چکی ہے — جو دنیا بھر کے ناظرین کے دلوں کو چھونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
